Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
314 - 415
قرب ومحبت پيدا کرتی ہے، جبکہ خوف دور بھاگنے کا سبب بنتا ہے اور اسی کی طرف شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس فرمان ميں اشارہ ہے:
لَا يموْتُنَّ أحَدُکُمْ إلَّا وَھُوَ يَحْسُنُ الظَّنَّ بِاللہِ۔
ترجمہ:تم ميں سے ہر ایک کو اس حالت میں موت آئے ،کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اچھا گمان رکھتاہو۔
(صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب الامر بحسن الظن باﷲ عند الموت، الحدیث۷۲۲۹، ص۱۱۷۶)
    حضور انور،شافعِ محشر،محبوبِ داوَر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک شخص کے پاس تشريف لے گئے ،جو نز ع کے عالم ميں تھا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پوچھا:''تم اپنے آپ کو کيسا پاتے ہو؟'' اس نے عرض کی:'' ميں اپنے آپ کو يوں پاتا ہوں کہ مجھے اپنے گناہوں کا خوف بھی ہے اور اپنے رب عَزَّوَجَلّ کی رحمت کی اميد بھی۔''تورسولِ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ''ایسے وقت میں جس بندے کے دل ميں يہ دونوں باتيں(یعنی اميد اور خوف )جمع ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اُس کی اميد کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جس چیزسے اُسے خوف ہوتا ہے اس سے امن عطا فرماتا ہے۔''
(جامع الترمذی، ابواب الجنائز، باب الرجاء باﷲ والخوف بالذنب عند الموت، الحدیث۹۸۳،ص۱۷۴۵)
    جاننا چاہے!جس شخص پر اس حد تک مايوسی غالب ہو کہ وہ نااميد ہو جائے يا اس پراتنا خوف غالب ہوکہ اس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان پہنچائے، تویہ دونوں ایسے علاج کے محتاج ہیں جو ان کو راہِ اعتدال کی طرف لائے اور وہ شخص جس پر گناہوں کا غلبہ ہو، اس کے حق ميں اميد کے اسباب زہرِ قاتل ہيں اور وہ شہد کی طرح ہيں جس میں اس شخص کے لئے شِفاء ہے جس پر سردی غالب ہو اور اگر ایسا شخص اسے استعمال کرے جس پر حرارت غالب ہو تو وہ ہلاک ہو جائے گا۔ليکن جس شخص پر تمنا غالب ہو اور وہ نافرمان ہو تواس کا علاج خوف پیدا کرنے والے اسباب سے کرنا چاہئے اور جس شخص پر خوف غالب ہو اس کا علاج اميد سے کيا جائے، يہ دو حصے ہيں جن سے ہر ايک اپنی خاص حالت کے مطابق سيراب ہوتا ہے۔

    امیر المؤمنین، مولیٰ مشکل کشاحضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّم َاللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہيں:''عالم وہ ہے جو نہ تو لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے نا اميد کرے اور نہ ہی اُس کی خفيہ تدبير سے امن دِلائے۔ ''

    جب علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم انبيا ء کرام عليہم السلام کے وارث ہيں ،تو وہ دِلو ں کے بھی طبيب ہيں لہٰذا یہ وہی چیز استعمال کريں ،جو ہر مريض کی حالت کے مطابق ہے۔

    اُميد کے حصول ميں نافع دوا يہ ہے کہ انسان ان نعمتوں پر غور کرے جو بدن کی صحت اور اعضاء کی سلامتی کی صورت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے عطا فرمائیں ،پھر اس کی رہنمائی کے لئے انبياء کرام عليہم السلام کو مبعوث فرمايا اوراس کی اصلاح کے لئے
Flag Counter