ترجمۂ کنزالايما ن: پھر اُن کی جگہ ان کے بعد وہ ناخلف آئے کہ کتا ب کے وارث ہوئے، اس دنيا کا مال ليتے ہيں اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی۔(پ9،الاعراف: 169)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے واضح فرمایا کہ اس قسم کی اميد کی کوئی حقيقت نہيں جب تک وہ تمام اسباب نہ پائے جائيں جن کا اس سے پہلے ہونا ضروری ہے، اس پر حضرت سَیِّدُنا زيد خيل ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی يہ روايت بھی دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں عرض کی:'' ميں اس شخص کی علامت پوچھنے آياہوں،جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اور اس کی علامت بھی بیان فرما دیجئے جس سے بھلائی کا ارادہ نہیں فرماتا؟'' نبئ اَکرم ،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے پوچھا:''تم نے صبح کس حال ميں کی ؟ ''انہوں نے عرض کی:''ميں نے اس حال ميں صبح کی کہ ميں بھلائی اور اہلِ خير سے محبت کرتا ہوں اور اگر ميں کسی نيکی پر قادر ہوتا ہوں تو اس کی طرف جلدی کرتا ہو ں اور ثواب کے ملنے پر يقين رکھتا ہوں اور اگر مجھ سے کوئی عمل چُھوٹ جائے تو اس پر غمگين ہوتا ہوں اور اس کا مشتاق ہوتاہوں۔'' تو نبئ رحمت،شفیعِ اُمت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرما يا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ جس سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اس کی يہی علامت ہے اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا تيرے ساتھ دوسرا ارادہ ہوتا تو وہ تمہيں اس کی طرف لے جاتا، پھر اسے اس بات کی پرواہ نہ ہوتی کہ تم کس وادی ميں ہلاک ہوتے ہو۔''
(حلیۃ الاولیاء، عبد اﷲ بن مسعود، الحدیث۱۳۰۰،ج۱،ص۴۶۱)
پس نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس شخص کی علامت بيان کی جسے بھلائی کے لئے منتخب کیا جاتاہے اوراس سے رجاء کا معنی بھی معلوم ہوتا ہے۔
اُميد کی فضيلت اور ترغيب:
جاننا چاہے!اُميد کے ساتھ عمل کرنا خوف کے ساتھ عمل کرنے سے افضل ہے، کيونکہ سب سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب وہ لوگ ہیں جو سب سے زيادہ اُس سے محبت رکھتے ہيں اور محبت اُميد کے ساتھ غالب ہوتی ہے ،کيونکہ بھلائی کی اُميد