Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
312 - 415
باب33:              رجاء اورخوف کا بيان

رجاء:
    جان لیجئے! اُميد اور خوف سالکين کے مقامات اور طالبين کے احوال ميں سے ہيں اور جب تک کوئی وصف عارضی اورزائل ہونے والا ہو، تو اُسے حال کہتے ہيں اور جب پختہ ہو جائے تو اُسے مقام کہاجاتا ہے۔

    پس ہم کہتے ہيں،جان لیجئے! اگر مستقبل ميں کسی ایسی چيزکا انتظار ہوجس سے دل کو تکليف ہوتی ہو اسے خوف کہا جاتا ہے اور اگر وہ ايسی چيز ہو جس سے دل کو خوشی حاصل ہوتی ہو تو اُسے اميد کہاجاتا ہے۔ گويا اُميد دل کی راحت کا نام ہے جو محبوب چيز کے انتظار سے حاصل ہو تی ہے ليکن اس کا کوئی سبب ہونا ضروری ہے لہٰذا جب اس کے اکثر اسباب پائے جائیں تو اس پر رجاء(یعنی اُميد) کا لفظ صادق آتا ہے اور اگر اس کا انتظار بغير اسباب کے ہو تو اس پر غرور (یعنی دھوکے) کا لفظ صادق آتا ہے اور اگر اسباب کا ہونااور نہ ہونا برابر ہو تو اس پر تمنا کا لفظ صادق آتا ہے۔

    اہلِ معرفت جانتے ہيں کہ دنيا آ خر ت کی کھيتی ہے ، دل زمين کی طرح ہے ،جس میں ايمان بيج کی طرح ہے اور عبادت زمين کو سيراب کرنے ، اُلٹ پُلٹ کرنے اور زمين کو زرخيز بنانے والی چيزوں کی طرح ہے اور دنيا ميں غرق اور ڈوبا ہو ا دل اس بنجر زمين کی طرح ہے جس ميں بيج نہيں اُگتا اوریومِ قيامت فصل کا ٹنے کا دن ہے اور ہر شخص وہی کاٹے گا جواس نے بويا ہوگا اور کھيتی کا بڑھنا ايمان کے بيج کے بغير نا ممکن ہے اور جب دل ميں خبیث اور برے اخلاق ہوں تو ايمان بہت کم نفع ديتا ہے جس طرح بنجر زمين ميں بيج نہيں اُگتا پس جس شخص کوعمدہ زمین ، پانی ، ضروری سامان اورتمام خرابيوں سے پاک زمین حاصل ہوجائے پس وہ اس ميں اچھا بيج ڈالے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل کا امیدوار بن کر کھيتی کے کٹنے کا انتظار کرے کہ وہ زمين کو بجلی کی گرج اور ديگر خرابیوں سے بچائے گا۔پس اسی طريقے کانام اُميد ہے۔

    اور اگرانسان شور زدہ سخت زمين ميں بيج ڈال دے کہ اس تک پانی نہ پہنچے پھر اس کے کٹنے کا انتظار کرے، تواسے دھوکا کہتے ہيں اور اگر بيج اچھی زمين میں بوئے، ليکن اسے پانی نہ ملے اور بارش کے پانی پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے کٹنے کا انتظار کرے تو اسے تمنا کہا جاتا ہے ۔

    پس تمہیں معلوم ہوگيا کہ جو شخص اپنے دل ميں ايمان کی کھيتی بوتا ہے اور اس کو عبادات کا پانی ديتا ہے اور دل کو خبائث سے پاک کرتا ہے، جس طرح وہ زمين کو کانٹوں اور گھاس پھوس سے پاک کرتا ہے تو اسے اميد رکھنی چاہے ليکن جو ايسا نہيں کرتا وہ فضول تمنا کرنے والا اور دھوکے ميں مبتلا ہے۔
Flag Counter