Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
311 - 415
پسند کرتاہے، جب کوئی کاريگر اپنی مصنوع (یعنی بنائی ہوئی چیز) کو چاہتا ہے تووہ اپنے آپ کو چاہتا ہے اور جب کوئی اپنے بيٹے کو اپنا بيٹا ہونے کی وجہ سے پسند کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو پسند کرتاہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات کے سوا ہر موجود چیزاسی کی بنائی ہوئی ہے، اگر وہ اس سے محبت کرتا ہے تووہ اپنے آپ سے ہی محبت کرتا ہے۔ يہ کیفیت توحيد کی نگاہ سے دیکھنے کی صورت میں ہے اور صوفيا ء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اسے فنائے نفس سے تعبیر کرتے ہیں یعنی سالک اپنی ذات سے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر چیز سے فنا ہو کر صرف اسی کو ديکھتاہے اور دیگر لوگ اس بات کو نہيں سمجھ سکتے اور اس کاانکار کرتے ہیں اور کہتے ہيں: بندہ کيسے فنا ہوسکتا ہے ؟جبکہ اس کا سايہ اتنا لمبا ہے جتنااس کا قد ہے اور وہ رات دن ميں کئی کلو غلہ کھا جاتا ہے ؟ اور وہ اپنی جہالت کی وجہ سے ان بزرگوں کا مذاق اڑاتے ہيں۔ لیکن عارفين کے لئے شرط ہے کہ وہ جاہلوں کے مذاق کا نشانہ بنيں اور اسی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمان میں اشارہ ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اَجْرَمُوۡا کَانُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَضْحَکُوۡنَ ﴿۫ۖ29﴾
ترجمۂ کنزالايمان:بے شک مجرم لوگ ايمان والوں سے ہنسا کرتے تھے۔(پ30 ،المطففين: 29)

    اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں ،پس ہم کہتے ہيں: شکرادا کرنا يہ ہے کہ نعمت کو اسی راستے ميں استعمال کيا جائے جس کے لئے اسے پيدا کيا گيا۔ اس کی مثال يہ ہے کہ ايک بادشاہ نے اپنے کسی غلام کی طرف گھوڑا بمع سازوسامان بھیجا تاکہ وہ اس پر سوار ہوکر اس کے پاس آئے پس اگر وہ سوار ہوکر بادشاہ کے پاس آتا ہے اور اسے اس راستے ميں استعمال کرتا ہے جس کے لئے اسے بھيجا گياتو وہ اس نعمت کو اس طرح استعمال کرنے والا ہے جس مقصد کے لئے وہ ہے ليکن اگر وہ اس پر سوار ہو کر بادشاہ سے دور ہو جائے اور اس سے بھاگ جائے تو يہ حماقت اور نعمت کی ناشکری ہے۔

    اس بات کو سمجھ لو فائدہ ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَاِلَيہ الْمَرْجَعُ وَالْمَآبُ۔
Flag Counter