| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ہيں کہ حضرت سَیِّدُنا داؤد اور حضرت سَیِّدُنا موسیٰ علیٰ نبینا و علیہما الصلوٰۃو السلام نے عرض کی:'' (اے ميرے رب عَزَّوَجَلَّ ) ميں تيرا شکر کیسے ادا کروں کيونکہ جب تک مجھے دوسری نعمت حاصل نہ ہو،ميں شکر ادا نہيں کرسکتا؟''تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ''جب تم نے اس بات کو جان ليا تو شکر ادا ہوگيا۔''اوردوسری روايت ميں ہے، جب تمہیں يہ بات معلوم ہوگئی کہ يہ نعمت ميری طرف سے ہے تو تمہارااس پر راضی ہونا ہی شکر ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے ميں شکر کا مفہوم:
اگر توکہے: ''ميں يہ جواب نہيں سمجھا کيونکہ اسی طرح کے علم کا حاصل ہونا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تيسری نعمت ہے توجان لے ! يہ توحيد کے دروازے پر دستک دیناہے اور بے شک وہی شکر قبول فرمانے والاہے،اسی کا شکر ادا کیا جاتا ہے، وہ محبت فرمانے والا ہے اور اسی سے محبت کی جاتی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی چيز کا وجود نہيں اوراس کی ذات کے سوا سب ہلاک ہونے والے ہيں، اور يہ بات ہر حال ميں ازل وابد کے اعتبار سے صحيح ہے کہ کسی بھی چيز کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا وجود نہيں جوقائم بالذات ہو اور بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی بالذات قائم ہے اور باقی ہر چيز اسی کے حکم سے قائم ہے، وہ زندہ اور قائم رکھنے والاہے پس جب اس کے علاوہ کوئی چيز موجود نہيں تو وہی شاکر و مشکور ہے ،وہی محب ومحبوب ہے۔
حضرت سَیِّدُنا حبيب بن ابی حبيب علیہ رحمۃ اللہ المنیب نے اسی نظر سے ديکھا، جب انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا يہ فرمان پڑھا:اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۴۴﴾
ترجمۂ کنز الايمان :بے شک ہم نے اسے صابر پايا،کيا اچھا بندہ، بے شک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ 23،صۤ:44)
توارشاد فرمایا:''تعجب کی بات ہے، خود ہی ديتا ہے اور خود ہی تعريف کرتا ہے۔'' يہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب اس نے اپنے دينے پر ان کی تعريف کی تو گويا اپنی تعريف کی۔ پس وہی تعريف کرنے والا اور اسی کی تعريف کی جاتی ہے۔
حضرت سَیِّدُنا شيخ ابوسعيد ميہنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اسی نظر سے ديکھا، جب ان کے سامنے يہ آيت پڑھی گئی:یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
ترجمۂ کنزالايمان :وہ اللہ کے پيارے اور اللہ ان کا پيارا۔(پ 6،المآئدۃ:54)
تو انہوں نے فرمايا:'' ميری عمر کی قسم !اللہ عَزَّوَجَلَّ انہيں چاہتا ہے،وہ انہیں پسند کرتا ہے،وہ انہیں پسند کرسکتا ہے کيونکہ وہ (اسطرح ) اپنے آپ کوچاہتا ہے۔''
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کيا ہے کہ وہ محب ہے اور وہی محبوب ہے،يہ بلند رتبہ ہے، جب تک عام فہم مثال نہ بيان کی جائے تمہاری سمجھ ميں نہيں آتا، تم پر يہ بات پوشيدہ نہيں کہ جب کوئی مصنف اپنی تصنيف کو پسند کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو