Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
309 - 415
    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
''ألطَّاعِمُ الشَّاکِرُ بِمَنْزِلَۃِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ۔
ترجمہ:کھانے والا شکر گزار صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے ۔''
(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب الطاعم الشاکر، الحدیث۲۴۸۶،ص۱۹۰۲)
حقیقتِ شکر کا بیان:
    شکر کی حقيقت يہ ہے کہ بندہ اس بات کو جان لے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کوئی مُنْعِم(یعنی نعمت عطا کرنے والا) نہيں، پھر جب تم نے اپنے اعضاء ،جسم ،روح اوراپنی معاشی ضروریات کے معاملے میں اپنے اوپر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کے بارے ميں تفصیلاً جان لیا توتمہارے دِل ميں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس نعمت وفضل پر خوشی پيدا ہوگی جو تجھ پرہے پھر تم اس کے موجبات کے مطابق عمل بجا لاؤ گے اوریہ دل،زبان اور تمام اعضاء کے ذریعے شکر ادا کرنا ہے۔
شکر کے مختلف طریقے:
    قلب کے ذریعے شکر ادا کرنا یہ ہے کہ دل میں تمام مخلوق کے لئے بھلائی رکھے اور دل کو ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر میں حاضر رکھے اور اس سے غافل نہ ہو۔زبان سے شکرادا کرنا يہ ہے کہ وہ زبان کے ذريعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شکر پر دلالت کرنے والی حمد کے ذریعے اس کا شکر ادا کرے۔ اعضاء کے ساتھ شکر ادا کرنا یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کو اس کی اطاعت ميں استعمال کرے اور گناہوں ميں استعمال کرنے سے بچے اور آنکھوں کا شکر ادا کرنايہ ہے کہ کسی مسلمان کا عيب ديکھے تو اس پر پردہ ڈالے اور اس کے گناہوں کی طرف نہ ديکھے اور کانوں کا شکر ادا کرنا يہ ہے کہ جو عيب سنے اس پر پردہ ڈالے اور ان سے صرف مباح چيز ہی سنے۔

    حضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايک شخص سے پوچھا:'' تم نے صبح کيسے کی ؟'' اس نے عرض کی: ''بھلائی کے ساتھ۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دوبارہ استفسار فرمایا،اس نے وہی جواب ديا حتیّٰ کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے تيسری مرتبہ پوچھا تو اس نے جواب ديا:''ميں نے بھلائی کے ساتھ صبح کی، ميں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرتا ہوں اوراس کا شکر اداکرتا ہوں۔'' نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ''ميں تم سے يہی بات چاہتا تھا۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث۴۳۷۷، ج۳،ص۲۱۶)
    ہر شخص سے جب کسی چيز کے بارے ميں پوچھا جاتا ہے تو وہ دوچيزوں کے درميان ہوتا ہے، شکر ادا کرکے مطيع بن جائے يا شکوَہ کرکے نافرمان ہوجائے۔

    اگر کوئی سوال کرے کہ شکر کا کيا معنی ہے اور شکر تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دوسری نعمت پر ہوتا ہے ؟ہم جواب ديتے
Flag Counter