Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
307 - 415
باب32:                 صبروشکر
    جان لیجئے! ايمان کے دو حصے ہيں: ايک حصہ صبر اور دوسرا حصہ شکر ہے جیسا کہ احاديث اورآثار اس بات پر شاہد ہيں۔
قرآن وحدیث میں صبرکے فضائل :
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے صبر کی تعريف کرتے ہوئے ارشاد فرمايا:
(1) وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ؕ
ترجمۂ کنزالايمان :اورہم نے ان ميں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جبکہ انہوں نے صبر کيا۔ (پ21 ،السجدۃ: 24)
(2) وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ ۬ۙ بِمَا صَبَرُوۡا ؕ
ترجمۂ کنزالايمان : اور تيرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائيل پر پورا ہوا بدلہ ان کے صبر کا۔(پ9،الاعراف :137)
(3) وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا
ترجمۂ کنزالايمان :اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کوان کا صلہ ديں گے۔  (پ 14،النحل:96)

    حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ايمان کے بارے ميں پوچھا گياتو ارشاد فرمايا:
''ألصَّبْرُوَالسَّمَاحَۃُ
ترجمہ:صبر اور سخاوت کرنا۔''
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی حسن الخلق، الحدیث۸۰۱۴،ج۶،ص۲۴۲)
    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ جنّت نشان ہے:''أ
 لصَّبْرُکَنْزٌ مِنْ کُنُوْزِالْجَنَّۃِ
ترجمہ:صبر جنت کے خزانوں ميں سے ايک خزانہ ہے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب الصبر، الحدیث۱۶،ج۴،ص۲۴، الجنۃ:بدلہ:الخیر)
حقیقت صبر کا بيان:
    جان لیجئے! صبر علم ،حال اور عمل سے مرکب ہے، اس ميں علم درخت کی طرح ، حال ٹہنيوں کی طرح اور عمل پھل کی طرح ہے اور تو نے جان لیا کہ صبر ميں دينی مصلحت ہے اور یہ ايسی قوت ہے جو صبر کا تقاضا کرتی ہے اور یہ صبریا تو عبادت پر ہمیشگی اختیار کرنے سے یاشہوت کو ترک کرنے سے ہوتا ہے اور یوں وہ تمام احوال میں صبر ہی کی کسی قسم کواختیارکرتا ہے یہاں تک کہ وہ مباح کاموں میں بھی میانہ روی اختیار کرتا ہے اورحد سے نہیں بڑھتا اور جہاں تک عبادت پر صبر کرنے کا تعلق ہے تو يہ جانناچاہيے کہ وہ اس پر کچھ روز صبر کریگا تو اس کے مقابلہ ميں ہميشہ سعادت پائے گا اور عبادت پر صبر ميں اسے ضرورت ہے کہ اسے نہ ظاہر
Flag Counter