ہوتا ہے ان سے تو بہ دوسرے کے فیصلہ کرنے اور معاملہ اس کے سپرد کرنے کے بعد ہی صحیح ہوتی ہے جس طر ح قصاص ، دوسرو ں کے حقوق غصب کرنا،تا وان کی مختلف اقسام اور حدِ قذف وغیرہ۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو تو بہ کا ارادہ کر ے لیکن جو تو بہ نہ کرے تو ہمیں چاہے کہ اس کے دل سے گناہوں پر اصرار کی گرہیں کھولنے کے لئے اسے گناہگار وں کے حالات سے ڈرائیں جو آیات واحادیث میں وارد ہیں اور اس شخص کا حال اوراس کی سزا کو بیان کریں جو توبہ کئے بغیر فسق وفجور کی حالت میں مرگیا اور اس پر یہ واضح کریں کہ کبھی دنیا ہی میں سزا مل جاتی ہے یہاں تک کہ اگر وہ آخرت کی سزا سے اندھا ہو جائے تو شاید دنیا کی سزا سے خوف کھاجائے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔