Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
305 - 415
مقبول توبہ کا بیان:
    جان لیجئے! جب تمہیں قبولیت کا معنی معلوم ہوگیا تو تمہیں کسی بھی صحیح طور پر کی گئی تو بہ کے قبول ہونے میں شک نہیں ہونا چاہے۔ نورِ بصیرت سے دیکھنے والے اور انوارِ قرآن سے فیض یاب ہونے والے لوگ جانتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہر قلبِ سلیم کو بروزِ قیامت قربِ خدا وندی کا اعزاز حاصل ہوگا اور وہ اپنی باقی رہنے والی آنکھوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دیدار کر سکے گا۔ اور انہیں معلوم ہے کہ دل اپنی اصل کے اعتبار سے سلامتی والاپیدا کیا گیا اور اس کی سلامتی گناہوں کا گر دو غبار چھا جانے سے زائل ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ندا مت کی آگ اس غبار کو جلا کر راکھ کردیتی ہے اور نیکی کا نور دل کے چہرے سے گناہ کی تا ر یکی کو مٹا دیتا ہے اور نیکیوں کے انوار کے سامنے گناہوں کے اندھیرے نہیں ٹھہرتے جیسے دن کی رو شنی کے سامنے رات کے اندھیرو ں کا بس نہیں چلتا اور جس طر ح صابن کی سفیدی سے میل کی کدورت باقی نہیں رہتی، اسی طر ح تو بہ واستغفار اور ندامت کے نور سے گناہ باقی نہیں رہتے سوائے اس کے کہ گناہوں کی کثرت اور ہمیشگی کی وجہ سے دل خراب ہوگیا ہو۔ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں جس طر ح اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کفار کے بارے میں فرمایا:
(1) کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿14﴾
ترجمۂ کنز الایمان : کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑ ھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے ۔(پ30، المطففین :14)
(2) وَطَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی۔ (پ10، التوبۃ: 93)

    یہ بات کفار اور منافقین کے بارے میں ہے جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو یہ بات ان کے حق میں نہیں کیونکہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
لَوْ عَلِمْتُمُ الْخَطَایَا حَتّٰی تَبْلُغَ السَّمَاءَ ثُمَّ نَدِمْتُمْ لَتَابَ اللہُ عَلَیْکُمْ۔
ترجمہ:اگر تم گناہوں کا ارتکاب کر و یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تمہیں ندامت ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری تو بہ قبول فرمائے گا۔
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد ، باب ذکر التو بۃ، الحدیث ۴۲۴۸، ص۲۷۳۵، مفہوماً)
کن چیزوں سے توبہ کرنا ضروری ہے:
    تما م گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے جن کے بارے ميں آپ گذشتہ مذمومہ صفات اوران سے پیدا ہونے والی برائیوں کے بیان میں جان چکے ہیں، پس صغیرہ وکبیرہ تمام گناہوں سے توبہ کرناضروری ہے اور کہا گیا ہے کہ'' صغیرہ گناہ پر اصرار سے وہ صغیرہ نہیں رہتا اور استغفار سے کبیرہ گناہ باقی نہیں رہتا ۔''جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا تو جان لو کہ وہ گناہ جن کا غیر سے تعلق
ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! آلِ محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کو بقدرِ کفایت روزی عطا فرما۔''
Flag Counter