| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ہیں کہ ان کا ہر سانس ایسا نفیس جوہر ہے جو کہ انمول ہے حتٰی کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس کا مقابلہ ایک سانس سے کیا جائے تویہ(دنیا و مافیہا) اس کی قیمت کے برابر نہیں ہوسکتا پس وہ اپنے اوقات کی حفاظت کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ اپنی غفلتوں میں پڑے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے جب کسی کی موت کا وقت آجائے :
فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿10﴾
ترجمۂ کنزالایمان: پھر کہنے لگے اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔(پ 28، المنٰفقون: 10)
اس کا معنی یہ ہے کہ جب بندے کی نگاہوں سے پر دہ اٹھتاہے تو وہ کہتا ہے: اے موت کے فر شتے! مجھے ایک دن مہلت دے دے،تاکہ میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عذر پیش کر سکوں اور تو بہ کرو ں اور اپنے لئے اچھا توشہ تیار کر لوں۔ فر شتہ جواب دیتا ہے: تو نے ساری زندگی ضائع کردی اب کوئی دن نہیں مل سکتا۔تووہ کہتا ہے: مجھے ایک گھڑی مہلت دے دے۔ فر شتہ جواب دیتا ہے: تم نے تمام ساعتیں ضائع کردیں اب کوئی ساعت نہیں پس اس پر تو بہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور جا ن حلق میں آجاتی ہے اور اس افسوس کی حالت میں اس کی سانس سینے میں اُکھڑجاتی ہے وہ گذشتہ نقصان کی تلافی نہ کرنے پر ناامیدی اور اپنی ساری زندگی ضائع کرنے پر حسرت و ندامت کے گھونٹ پیتا ہے۔ ان حالات کے صدمات میں اس کا اصل ایمان مضطرب ہو جاتا ہے۔والعیاذ باللہ
جب اس کا دم نکلنے لگتاہے تو اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کی کوئی نیکی قبول ہو چکی ہو تو اس کی روح تو حید پر نکلتی ہے اور یہی حسنِ خاتمہ ہے لیکن اگرا س کے لئے بد بختی کا فیصلہ ہوچکا ہوتو اس کی رو ح شک اور اضطراب پر نکلتی ہے۔ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اور یہی برا خاتمہ ہے، اسی کی مثل اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:(1)وَلَیۡسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ ۚ حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الۡـٰٔنَ
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ تو بہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے تو بہ کی۔(پ4، النسآء: 18)
(2) اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہِ لِلَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ
ترجمۂ کنزالایمان : وہ تو بہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیاہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں تو بہ کر لیں۔(پ 4 ، النسآء:17)
اس کا معنی یہ ہے کہ وہ گناہ سر زد ہونے کے بعد نیکی کر ے تو وہ اس برائی کو مٹا دیتی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں وارد ہے۔