Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
303 - 415
اسباب ومسببات کوحرکت دے اوران کے تسلسل کی کیفیت اوران کےمسبِّبُ الاسباب کے ساتھ تعلق کی وجہ جان لے تو اس پرتقدیر کا راز واضح ہوجائے گا اوراسے اس بات کایقینی علم حاصل ہوجائے گاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی خالق اورموجدنہیں۔

    اعتراض:اگرتوکہے کہ آپ نے کہاہے کہ انسان کومجبورِمحض سمجھنے والے ، اپنے افعال کاخالق ماننے والے اوراپنے افعال حاصل کرنے والاسمجھنے والے ایک اعتبار سے سچے ہیں اورایک اعتبارسے ان میں کوتاہی پائی جاتی ہے؟

    جواب:تومیں جواب دوں گا:ہاں اورمیں تمہیں یہ چیزایک مثال سے سمجھاؤں گا،میں کہتاہوں : ''نابینالوگوں کی ایک جماعت نے سناکہ ان کے شہرمیں ہاتھی نامی ایک عجیب حیوان آگیاہے اورانہوں نے نہ کبھی اس کے بارے میں سناتھا،نہ اس کی صورت دیکھی تھی۔کہنے لگے: ہميں اس کا مشاہدہ کرنا چاہے اورجہاں تک ہوسکے اسے ہاتھ لگاکرپہچاننا چاہئے۔پس وہ ہاتھی کے پاس چلے گئے اور اُسے ہاتھوں سے ٹٹولا،کسی کاہاتھ اس کے پاؤں پرپڑا،کسی کا سونڈپراورکسی کااس کے کان پر۔پھر کہنے لگے :ہم نے ہاتھی کوپہچان لیا۔جب واپس آئے تو دوسرے نابینوں نے ان سے پوچھاتواُن کے جواب مختلف تھے، جس نے پاؤں کو چھوا تھا اس نے کہا:وہ ایک کھردرے ستون کی طرح ہے البتہ اس سے کچھ نرم ہے، جس نے اس کی سونڈکوہاتھ لگایاتھااس نے کہا: جیسا تم کہتے ہوویسا نہیں بلکہ سخت ہے، نرم نہیں چکناہے، کھردرانہیں ،ستون کی طرح بالکل موٹانہیں بلکہ ستون ہی کی طرح ہے، جس نے اس کے کان کوچھواتھااس نے کہا:و ہ ایک موٹاچمڑا ہے۔ توان میں سے ہرایک نے سچ کہاکیونکہ ہرایک نے ہاتھی کی جتنی پہچان حاصل کی اتنی ہی خبردی اورکوئی اس سے باہرنہیں نکلالیکن ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے سوچا کہ ہم نے پورے ہاتھی کی پہچان حاصل کرلی ہے۔'' اس مثال سے عبرت حاصل کروکیونکہ یہ اکثران چیزوں کی مثال ہے جن میں لوگ اختلاف کرتے ہيں۔

    اب ہم مقصدکی طرف لوٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے وجوب توبہ کے تین اجزاء بیان کئے، اب ہم کہتے ہیں کہ گناہ سرزد ہونے پر فوراً توبہ کرناواجب ہے کیونکہ گناہوں کوترک کرناہمیشہ واجب ہے۔ اسی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرنا بھی ہمیشہ واجب ہے۔جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا
ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ کی طر ف تو بہ کروسب کے سب۔(پ 18 ،النور: 31)

    اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تو بہ کرنا تمام لوگو ں پر واجب ہے یہ اس لئے کہ کوئی بھی انسان اعضاء یا خیالات کے گناہوں سے خالی نہیں ہوتا اور اس کی کم از کم صورت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات سے غافل ہونا یااس سے توجہ کا ہٹ جانا ہے اورانبیاء کرام علیہم السلام اورصدیقین ر حمہم اللہ المبین کی یہ شان ہے کہ وہ اس سے بھی توبہ کرتے ہيں۔

    اور وہ اولیاء کرام جن کے سینوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور ان کے دلوں پر ایمان لکھ دیا وہ جانتے
Flag Counter