| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
کے لئے حرکت اس وقت تک پیدانہیں کرتاجب تک وہ اس میں صفتِ قدرت پیدانہیں کرتااورجب تک اس میں حیات پیدا نہیں کرتا نیز جب تک پختہ ارادہ نہیں کرتا۔اورمضبوط ارادے کواس وقت پیداکرتاہے جب خواہش اورمیلانِ نفس پیدا فرماتا ہے اوریہ میلان اس وقت تک نہیں اُبھرتاجب تک اس بات کاعلم پیدانہ کرے کہ یہ میلان ابتداء یا انتہاء میں نفس کے موافق ہے اور علم کو بھی قدرت، ارادہ اور علم کی طرف لوٹنے والے دیگر اسباب کے بغیر پیدا نہیں فرماتا ،پس علم اورطبعی میلان ہمیشہ پختہ ارادے کے پیچھے چلتے ہیں،اور قدرت اورارادہ ہمیشہ حرکت کے تابع ہوتے ہيں اورہرفعل میں اسی طرح ترتیب ہے اوریہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق ہے لیکن بعض مخلوق دوسری بعض کے لئے شرط قرار دی گئی ہے اور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاطریقہ ہے جواس کے بندوں اوراس کی اُس قضاء میں جاری ہوچکاہے، جو پلک جھپکنے کی دیر میں واقع ہو جاتی ہے اوریہ مکمل ترتیب ہے،جو تبدیل نہیں ہوتی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:
اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے ہرچیزایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔ (پ27 ، القمر:49)
اور ان اندازوں میں سے ایک اندازہ قدرت،ارادہ ، قصداورعلم پیداکرنے کے بعدکاتب کے ہاتھ میں حرکت کوپیداکرنابھی ہے لہٰذا جب یہ چاروں امورتقدیر کے تحت مسخر انسان کے جسم پر غالب آجاتے ہے تو ظاہری علوم والے اور عالَم غیب اورملکوت سے ناواقف لوگ کہتے ہیں: اے فلاں شخص !تحقیق تم نے حرکت کی ،تم نے لکھااورتم نے کنکری پھینکی وغیرہ جبکہ پردہ غیب اورملکوت سے ندادی جاتی ہے اور ارشاد ہوتا ہے:(1) وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:اوراے محبوب! وہ خاک جوتم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔(پ9،الانفال:17)
(2) قَاتِلُوۡہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِاَیۡدِیۡکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان:توان سے لڑو،اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں۔ (پ0ا،التوبہ:14)
یہاں آکرظاہری علوم سے وابستہ لوگوں کی عقلیں حیران ہو جاتی ہیں۔پھر بعض کہتے ہیں: بندہ مجبورِ محض ہے۔ کوئی کہتاہے: وہ اپنے افعال کاخالق ہے۔ کچھ اعتدال پرہیں، پس وہ کہتے ہیں: بندہ اپنے افعال کو حاصل کرنے والا ہے۔ اگران کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جائیں اور وہ عالَمِ غیب اورملکوت کودیکھ لیں توان پر ظاہرہوجائے کہ ان میں سے ہرایک کسی اعتبار سے حقیقت کے مطابق کہتاہے لیکن سب کے سب قصورواربھی ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی اس بات کی حقیقت کو نہيں سمجھ سکتا اور اس کی آگاہی عالَمِ غیب کی طرف سے کھلنے والی کھڑکی سے نور کے چمکنے سے ہی ہوسکتی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ غیب وظاہر سے باخبرہے، اوراپنے غیب پر سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کسی کو آگاہ نہیں فرماتا اورجوشخص سلسلہ