| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ پسند کرتاہے بہت توبہ کرنے والوں کو۔(پ2،البقرۃ: 222)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ مغفرت نشان ہے: ''توبہ کرنے والااللہ عَزَّوَجَلَّ کا محبوب ہے اورگناہ سے توبہ کرنے والاایسا ہی ہے گویااس نے گناہ کیاہی نہیں۔''(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب ذکر التو بۃ، الحدیث۴۲۵۰،ص۲۷۳۵، بدون :التائب حبیب اﷲ)
سیِّدُ المُبلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ مسرت نشان ہے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ مؤمن بندے کی توبہ پراس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتاہے جوشخص کسی ناموافق ہلاکت خیزجگہ پراُترے، اس کے پاس اپنی سواری بھی ہوجس پراس کا کھانا پینا ہو، وہ سررکھ کر گہری نیندسوجائے پس جب وہ بیدار ہو تواس کی سواری جاچکی ہو، وہ اسے تلاش کرتاپھرے یہاں تک کہ اسے سخت گرمی اورپیاس لگے،جتنی اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے اوروہ کہے: میں اپنی اس جگہ کی طرف لوٹ جاتا ہوں جہاں میں تھاتاکہ وہاں جا کر سو جاؤں یہاں تک کہ میں مرجاؤں۔پس وہ مرنے کے لئے اپنی کلائی پرسررکھ دے پھرجب وہ بیدارہو تودیکھے کہ اس کی سواری اس کے پاس موجود ہے جس پر اس کاکھانااورپانی موجودہے توجس قدروہ بندہ اس سواری کے ملنے پرخوش ہوتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتاہے۔''
(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب التو بۃ، الحدیث۶۳۰۸، ص۵۳۱،بتغیرٍ)
توبہ کے وجوب پر ائمہ کرام کا اجماع ہے اگرتو کہے: توبہ کیسے واجب ہے؟جبکہ یہ تو دِل میں پیدا ہونے والی ندامت کا نتیجہ ہے اور یہ بندے کے اختیارمیں نہیں؟توہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ اس کاسبب اختیارمیں ہے اوروہ عمل کی کوشش کرنا ہے، اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ علم حاصل کرناضروری ہے کیونکہ یہ اس واجب توبہ میں داخل ہے نہ اس وجہ سے کہ آدمی علم کو خود پیدا کرتا ہے بلکہ علم،ندامت،فعل،ارادہ اورقدرت سب اس قادرِ مطلق ذات کی طرف سے ہے پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کوپیدافرمایا۔اربابِ بصیرت کے نزدیک یہی بات حق ہے اوراس کے علاوہ گمراہی ہے۔
اگرتم کہو:کیا بندے کوکام کرنے یاچھوڑنے کااختیارنہیں؟توہم جواب دیں گے: ہاں،ہے اوریہ ہمارے قول کے خلاف نہیں کہ'' ہرچیزاللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے ۔''کیونکہ اختیاربھی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کاپیداکردہ ہے اوربندہ اس اختیارمیں بھی مجبورہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جب صحیح ہاتھ اورلذیذکھانابھی پیداکیا،معدے میں کھانے کا شوق اوردل میں یہ علم بھی پیدا کیا کہ یہ کھاناخواہش کی تسکین کا ذریعہ ہے اوریہ ترددبھی پیدا کیاکہ خواہش کے پورا کرنے کے ساتھ کیایہ نقصان دہ تونہیں؟اورکیا اس کے کھانا کھانے میں کوئی رکاوٹ ہے یا نہیں؟پھرعلم بھی پیداکیاکہ کوئی رکاوٹ نہیں۔ لہٰذاان اسباب کے جمع ہونے پرکھانے کا ارادہ پختہ ہوجاتاہے اوریہ سب امور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بنائے گئے طریقے سے ترتیب پاتے ہیں مثلاً اللہ عَزَّوَجَلَّ ہاتھ میں لکھنے