Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
300 - 415
حصَّہ چہارم

مُنْجِیَات(نجات دِلانے والے اعمال)

باب31:             توبہ کا بیان
    جان لیجئے! توبہ اس معنی کانام ہے جوتین امورسے ترتیب پاتاہے: (۱)علم (۲)حال (۳)فعل۔

    علم۔ گناہوں کے نقصانات کو جاننے کانام ہے اوریہ بندے اوراس کے ہر محبوب کے درمیان حجاب ہے۔ جب انسان کو اس بات کی پہچان ہوجائے تو اس سے دل میں ایک حال اٹھتاہے اوریہ محبوب کے نہ ملنے کے خوف کی وجہ پر پیدا ہونے والا غم ہے اور یہی ندامت ہے اور(دل پر)اس ندامت کے چھاجانے سے توبہ اور گذشتہ گناہوں کی معافی کاارادہ پختہ ہوتاہے۔

    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ راحت نشان ہے:
''اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ
ترجمہ: ندامت توبہ ہے۔''
     (سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب ذکر التو بۃ، الحدیث۴۲۵۲،ص۲۷۳۵)
    کیونکہ ندامت علم کے بعدہی ہوتی ہے جس طرح ہم نے ذکرکیا۔
توبہ کا وجوب:
    توبہ کے وجوب پرعقل بھی دلالت کرتی ہے جیساکہ ہم نے بیان کیا۔
توبہ کی فضیلت:
    جان لیجئے!آیات واحادیث توبہ کے وجوب پردلالت کرتی ہیں جس طرح عقل توبہ کے وجوب پردلالت کرتی ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہيں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے:
(1) وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿31﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اوراللہ کی طرف توبہ کرو ،اے مسلمانو! سب کے سب اس امیدپرکہ تم فلاح پاؤ۔(پ18، النور:31)
(2) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے۔(پ28،التحریم:8)
Flag Counter