Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
299 - 415
    سوال:اگر آپ یہ کہیں کہ اس تقسیم کے بعدکیاتدابیرواسباب ہوں گے؟کیونکہ آپ نے بیان کیاہے کہ کوئی گروہ دھوکے سے محفوظ نہیں۔

    جواب:اگر تمہاری خواہش سچی ہوتوتدبیرواسباب کی طرف تمہاری رہنمائی کی جائے گی اوریہ اس کے لئے آسان ہے جس پراللہ عَزَّوَجَلَّ آسان فرمادے لہٰذا جو شخص غار سے سوناچاندی نکالنے،سمندرکی گہرائی سے مچھلی پکڑنے اورفضامیں اڑتے ہوئے پرندے کواُتارنے کی قدرت رکھتاہے وہ اس آسان کام سے عاجز نہیں ہوگا،جب انسان اعمال کی مصیبتیں پہچان لے اور یہ بات جان لے کہ ریاء،جاہ ومرتبہ اورشہرت جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ،باقی نہیں رہتیں بلکہ موت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہیں اور اپنے نفس کی ذِلت اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت وعظمت کوجان لے اوریہ بھی جان لے کہ دنیادھوکے کا مقام اورآخرت ہمیشہ کا ٹھکانہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے عمل نہ کر ے اوران آفات سے نہ بچے۔

    سوال: اگرتم سوال کروکہ یہ سب کچھ کرنے کے بعدکس چیزکاخوف ہوگا؟

    جواب:اس کا جواب یہ ہے کہ اب اس بات کاخوف ہوگاکہ شیطان اس پرمسلَّط نہ ہوجائے اورکہے تووہ آدمی ہے جو ان آفات سے بچ گیااب تجھ پرضروری ہے کہ تومخلوق کوبلاکروعظ و نصیحت کرے ،یہ شیطان کی چال ہے کیونکہ جوشخص دنیاکے معاملہ میں اس کی نافرمانی کرتاہے تووہ اس کے پاس دین کے ذریعے آتاہے، ہم نے وعظ ونصیحت کی شرائط بیان کی ہیں، اگروہ ان شرائط پرپورا اترتاہے تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پربھروسہ کرتے ہوئے وعظ ونصیحت کرے، ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے توفیق حاصل ہو گی۔