Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
30 - 415
ر ِقَّتِ قلبی کے بارے میں ایک حدیث حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے سامنے ذکر کی تو آپ پر غشی طاری ہوگئی حضرت سیِّدُنا سفیان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوبتایا گیا:یہ تو انتقال کر گئے ہیں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا :''اگر ان کاانتقال ہوگیاہے تو زمانے کا افضل ترین شخص فوت ہوگیاہے۔''

    ایک مرتبہ کسی نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی:
ہٰذَا یَوْمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ35﴾وَ لَا یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوۡنَ ﴿36﴾
ترجمۂ کنزالایمان: یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں۔(پ 29، المرسلات :35،36)

    توامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کو دیکھا گیا کہ یہ (آیت مبارکہ سن کر) آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ رونگٹے کھڑے ہوگئے بہت زیادہ تڑپے اور بے ہوش ہو گئے جب ہوش آیا تو کہنے لگے:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!میں جھوٹوں کے مقام سے اور غا فلوں کے انجام سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! عارفین کے دل تیرے لئے جھک گئے اور مشتاقین کی گردنیں تیری ہیبت کے سامنے خم ہوگئیں ۔یااللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنے جو دوکرم سے حصہ عطا فرما اور مجھے اپنے پردۂ کرم و رحمت میں چھپالے اور اپنے لطف و کرم سے میری کوتاہیوں کو معاف فرما۔''

    دلوں کے اسرار سے آپ کے واقف ہونے پر یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ آپ سے کسی نے ریاء کے بارے میں پوچھاتو آپ نے فی البدیہہ ارشادفرمایا:'' ریاکاری ایک فتنہ ہے جسے خواہشات نفس نے علماء کی قلبی آنکھوں کے سامنے لاکھڑا کیا ہے انہوں نے اس کی طرف نفس کی بری چاہت کے ساتھ دیکھاتو ان کے اعمال برباد ہوگئے ۔''

    حضرت سیِّدُناامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے ارشادفرمایا: ''جب تمہیں اپنے آپ پر خود پسندی کاڈرہوتودیکھوتم کس کی رضاچاہتے ہو؟ کس ثواب میں رغبت رکھتے ہو؟ کس عذاب سے بھاگتے ہو؟ کس عافیت کا شکر ادا کرتے ہو؟اور کس مصیبت کو یاد کرتے ہو ؟''

    آپ نے فقہ اور مناظرہ سے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا طلب کی جیساکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خودارشاد فرماتے ہیں:''میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس علم سے نفع اٹھائیں اوراس میں کچھ بھی میری طرف منسوب نہ ہو۔ یہ بات اس پر قطعی دلیل ہے کہ آپ نے علم سے لوگوں میں شہرت اور دنیا کی خواہش نہیں کی۔''

    حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:'' میں نے کسی سے بھی مناظرہ کرتے ہوئے یہ نہیں چاہا کہ وہ غلطی کرے اور میں نے جس سے بھی کلام کیا اس لئے کیا کہ اسے توفیق حاصل ہو،تاکہ وہ سیدھے راستے پر رہے اور اس کی مدد کی جائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اسے حمایت و حفاظت حاصل رہے اورمیں نے جب بھی کسی سے کلام کیا تو چاہا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ
Flag Counter