کا بھر جانا بدن کو بھاری ، دل کو سخت ، دانائی کو زائل کرتا، نیند کو بڑھاتا اور عبادت میں سستی لاتا ہے۔''
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام کی نہ کبھی سچی قسم کھائی نہ جھوٹی۔۱؎
حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے ایک مسئلہ پوچھا گیا مگر آپ خاموش رہے عرض کی گئی:'' آپ جواب کیوں نہیں دیتے؟'' ارشادفرمایا:''اس لئے کہ جب تک مجھے معلوم نہ ہو جائے کہ میرے خاموش رہنے میں بہتری ہے یا جواب دینے میں۔''
حضرت سیِّدُنا احمد بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' ایک دن حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی قندیلوں کے بازار سے نکلے تو ہم آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے دیکھا کہ ایک شخص کسی عالم کو بیہودہ باتیں کہہ رہا تھا حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی ہماری طرف متوجہ ہوئے اورارشاد فرمایا:'' فحش کلامی سننے سے اپنے کانوں کو پاک رکھو جیسے تم اپنی زبانوں کو برے کلام سے پاک رکھتے ہو کیونکہ (قصداََ) سننے والا کہنے والے کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور بے وقوف آدمی ہی اپنے برتن( یعنی دماغ) میں سے سب سے بری بات تمہارے برتنوں(یعنی دماغوں) میں ڈالنے کی حرص کرتا ہے۔ اگر بے و قوف کی بات اسی کی طرف لوٹا دی جائے تو لوٹانے والا نیک بخت ہوتا ہے جس طرح کہ اس کا قائل بدبخت ہوتا ہے ۔''
حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:''ایک دانا نے دوسرے عقلمند کی طرف لکھا کہ تمہیں علم دیا گیا ہے لہٰذا تم اپنے علم کو گناہوں کی سیاہی سے آلودہ نہ کرو،ورنہ تم اس دن اندھیرے میں رہو گے جب اہل علم اپنے علم کی روشنی میں چلیں گے۔''