Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
29 - 415
کا بھر جانا بدن کو بھاری ، دل کو سخت ، دانائی کو زائل کرتا، نیند کو بڑھاتا اور عبادت میں سستی لاتا ہے۔''

    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام کی نہ کبھی سچی قسم کھائی نہ جھوٹی۔۱؎ 

    حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے ایک مسئلہ پوچھا گیا مگر آپ خاموش رہے عرض کی گئی:'' آپ جواب کیوں نہیں دیتے؟'' ارشادفرمایا:''اس لئے کہ جب تک مجھے معلوم نہ ہو جائے کہ میرے خاموش رہنے میں بہتری ہے یا جواب دینے میں۔''

    حضرت سیِّدُنا احمد بن یحیی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' ایک دن حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی قندیلوں کے بازار سے نکلے تو ہم آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے دیکھا کہ ایک شخص کسی عالم کو بیہودہ باتیں کہہ رہا تھا حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی ہماری طرف متوجہ ہوئے اورارشاد فرمایا:'' فحش کلامی سننے سے اپنے کانوں کو پاک رکھو جیسے تم اپنی زبانوں کو برے کلام سے پاک رکھتے ہو کیونکہ (قصداََ) سننے والا کہنے والے کے ساتھ شریک ہوتا ہے اور بے وقوف آدمی ہی اپنے برتن( یعنی دماغ) میں سے سب سے بری بات تمہارے برتنوں(یعنی دماغوں) میں ڈالنے کی حرص کرتا ہے۔ اگر بے و قوف کی بات اسی کی طرف لوٹا دی جائے تو لوٹانے والا نیک بخت ہوتا ہے جس طرح کہ اس کا قائل بدبخت ہوتا ہے ۔''

    حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:''ایک دانا نے دوسرے عقلمند کی طرف لکھا کہ تمہیں علم دیا گیا ہے لہٰذا تم اپنے علم کو گناہوں کی سیاہی سے آلودہ نہ کرو،ورنہ تم اس دن اندھیرے میں رہو گے جب اہل علم اپنے علم کی روشنی میں چلیں گے۔''
امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی کازُہد:
    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے زُہدکااندازہ اس سے ہوسکتاہے کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرمایاکرتے تھے:''جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے دنیا کی محبت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت کو دل میں جمع کرلیا، اس نے جھوٹ بولا ۔ایک مرتبہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا عصا مبارک ہاتھ سے گرگیا ایک آدمی نے اُٹھا کر دیا تو آپ نے اسے بدلے میں پچاس دینار عطا فرمائے۔ حضرت سیِّدُ ناامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی سخاوت
اَشْہَرُ مِنَ الشَّمْسِ
یعنی سورج سے بھی واضح ہے۔
امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی کاخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ:
    آپ کے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ اورفکر آخرت کے بارے میں آتاہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے
۱؎:عارف باللہ،حضرت علامہ عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃاللہ القوی سچی قسم ترک کرنے پرواردہونے والے ایک اعتراض کاجواب دیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں: ''چاہے یہ کہ سچی قسم چھوڑنے کو عمدہ خوبیوں میں اس وقت شمارکیاجائے جب قسم معاملات میں جھگڑے کے وقت ہو لہٰذاجھگڑے میں جومطالبہ ہے پورا کر دے اور ایک اچھی بات پرعمل کرتے ہوئے قسم نہ کھائے۔''
(الحدیقۃ الندیۃ،النوع الرابع والاربعون من الانواع الستین کثرۃ الحلف....الخ،ج۲،ص۳۲۶)
Flag Counter