Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
298 - 415
ہو وہ اسے اسی طرح جھٹلاتاہے جس طرح اس سے پہلے سن کر جھٹلاتاتھا۔فرمان خداوندی ہے:
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿227﴾٪
ترجمۂ کنزالایمان:اوراب جانناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(پ19،الشعرآء:227)

     دنیا دار ومال دار:چوتھی قسم ان مال داروں کی ہے جومساجد،سرائے اورپل بناتے ہیں اوران پراپنانام لکھواتے ہیں اوراس سے اپنی شہرت اورلوگوں میں اپنا نام ہمیشہ باقی رکھناچاہتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ مغفرت کاطمع رکھتے ہیں حالانکہ یہ دووجہ سے خطااوردھوکا ہے۔

(۱)۔۔۔۔۔۔ایک وجہ تویہ ہے کہ ان کی تعمیرایسے اموال سے کرتے ہیں جوظلم،غصب اورلوٹ مارسے حاصل ہیں، ان کے لئے بہتر تو یہ تھا کہ ایسے فلاحی کام کرنے کے بجائے ان اموال کوان کے مالکوں کولوٹاتے۔

(۲)۔۔۔۔۔۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ان تعمیرات سے ریاکاری اورشہرت چاہتے ہيں حتیّٰ کہ اگرانہیں کہا جائے کہ وہ ایسی جگہ دینارخرچ کریں جہاں ان کانام نہ لکھاجائے توان کانفس سخاوت پرآمادہ نہیں ہوگاحالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر آگاہ ہے خواہ وہ اپنا نام لکھیں یا نہ لکھیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کامقصد صرف ریاء اورشہرت ہے۔

    کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مالِ حلال سے مساجدتعمیر کرتے اوران کی خوب زیب وآرائش کرتے ہیں، یہ بھی دووجہ سے دھوکے میں ہیں:(۱)ایک تویہ کہ شایدان کے پڑوس میں کوئی فقیربھوکاہوجو مددکا زیادہ مستحق ہو اور(۲) دوسری یہ ہے کہ وہ نمازیوں کوان نقش ونگاراورزیب وزینت کی وجہ سے نمازسے غافل کردیتاہے۔ وہ اس اعتبارسے دھوکے میں ہیں کہ انہوں نے برائی کونیکی سمجھااوراس پرحضرت سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جب مسجدنبوی بنانے کا ارادہ کیاتوحضرت جبریل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضرہوئے اورعرض کی:''اِسے اونچائی میں سات ہاتھ بلندرکھیں اورنقش ونگار اورزیب وزینت نہ فرمائیں۔''۱؎

    مختصر یہ کہ جوشخص کسی فقیر،مسکین یانیکی کے دیگرکاموں پر مال خرچ کرتاہے تووہ اپنے نفس سے پوچھے کہ کیا وہ پوشیدہ طور پر سخاوت کرناپسندکرتاہے ؟اگر اسے یہ پسندنہیں تو غالباًاس میں ریا کاری یاشہرت مقصود ہے۔
۱؎:صدر الشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہار شریعت، حصہ۱۶، ص۱۴۰ پر نقل فرماتے ہيں: ''مسجد کو چونے اور گچ سے منقش کرنا جائز ہے، سونے چاندی کے پانی سے نقش ونگار کرنا بھی جائز ہے جبکہ کوئی شخص اپنے مال سے ایساکرے، مال وقف سے ایسا نہیں کر سکتا۔بلکہ متولئ مسجد نے اگر مالِ وقف سے سونے چاندی کا نقش کرایا تو اسے تاوان دینا ہوگا۔ ہاں! اگر بانئ مسجد نے نقش کرایا تھا جو خراب ہو گیا تو متولئ مسجد مالِ مسجد سے بھی نقش ونگار کراسکتا ہے۔ بعض مشائخ دیوارِ قبلہ میں نقش ونگار کرنے کو مکروہ بتاتے ہیں،کہ نمازی کا دل ادھر متوجہ ہوگا۔''(بحوالہ الدر المختار ورد المختار ،کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع ج۹،ص۶۳۶)
Flag Counter