ترجمۂ کنزالایمان:اوراب جانناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(پ19،الشعرآء:227)
دنیا دار ومال دار:چوتھی قسم ان مال داروں کی ہے جومساجد،سرائے اورپل بناتے ہیں اوران پراپنانام لکھواتے ہیں اوراس سے اپنی شہرت اورلوگوں میں اپنا نام ہمیشہ باقی رکھناچاہتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ مغفرت کاطمع رکھتے ہیں حالانکہ یہ دووجہ سے خطااوردھوکا ہے۔
(۱)۔۔۔۔۔۔ایک وجہ تویہ ہے کہ ان کی تعمیرایسے اموال سے کرتے ہیں جوظلم،غصب اورلوٹ مارسے حاصل ہیں، ان کے لئے بہتر تو یہ تھا کہ ایسے فلاحی کام کرنے کے بجائے ان اموال کوان کے مالکوں کولوٹاتے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ان تعمیرات سے ریاکاری اورشہرت چاہتے ہيں حتیّٰ کہ اگرانہیں کہا جائے کہ وہ ایسی جگہ دینارخرچ کریں جہاں ان کانام نہ لکھاجائے توان کانفس سخاوت پرآمادہ نہیں ہوگاحالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر آگاہ ہے خواہ وہ اپنا نام لکھیں یا نہ لکھیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کامقصد صرف ریاء اورشہرت ہے۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مالِ حلال سے مساجدتعمیر کرتے اوران کی خوب زیب وآرائش کرتے ہیں، یہ بھی دووجہ سے دھوکے میں ہیں:(۱)ایک تویہ کہ شایدان کے پڑوس میں کوئی فقیربھوکاہوجو مددکا زیادہ مستحق ہو اور(۲) دوسری یہ ہے کہ وہ نمازیوں کوان نقش ونگاراورزیب وزینت کی وجہ سے نمازسے غافل کردیتاہے۔ وہ اس اعتبارسے دھوکے میں ہیں کہ انہوں نے برائی کونیکی سمجھااوراس پرحضرت سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جب مسجدنبوی بنانے کا ارادہ کیاتوحضرت جبریل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضرہوئے اورعرض کی:''اِسے اونچائی میں سات ہاتھ بلندرکھیں اورنقش ونگار اورزیب وزینت نہ فرمائیں۔''۱؎
مختصر یہ کہ جوشخص کسی فقیر،مسکین یانیکی کے دیگرکاموں پر مال خرچ کرتاہے تووہ اپنے نفس سے پوچھے کہ کیا وہ پوشیدہ طور پر سخاوت کرناپسندکرتاہے ؟اگر اسے یہ پسندنہیں تو غالباًاس میں ریا کاری یاشہرت مقصود ہے۔