| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ہوتا پھر وہ انوارِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کی منازل کی دوری کو پہچان لیتاہے، اگر نہ پہچان سکے تو ہلاک ہوجاتاہے اوریہی دھوکے میں مبتلا ہونے کا مقام ہے کیونکہ تجلی کرنے والی شئے اورجس میں وہ تجلی کرتی ہے ، دونوں ایک ہوجاتی ہیں جیسا کہ کوئی رنگین چیزشیشے میں دیکھی جائے تو شیشہ بھی رنگین نظر آتا ہے اوربندہ خیال کرتاہے کہ یہ شیشے کارنگ ہے اورجس طرح شیشے کے برتن میں ڈالی ہوئی چیز کا رنگ شیشے کے رنگ سے مل جاتا ہے ( یعنی شیشہ کے برتن میں رنگین چیزڈال دی جائے تو برتن بھی رنگین نظرآتاہے)جیسا کہ اس شعر میں کہا گیا ہے:
رَقَّ الزُّجَاجُ وَرَاقَتِ الْخَمْرُ فَتَشَابَھَا فَتَشَاکَلَ الْاَمْرُ فَکَاَنَّمَاخَمْرٌوَلَا قَدْحٌ وَکَاَنَّمَا قَدْحٌ وَّلَاخَمْرٌ
ترجمہ:شیشے کابرتن بھی صاف شفاف ہے اورشراب بھی پتلی ہے تووہ دونوں ایک جیسے ہو گئے اورمعاملہ مشتبہ ہو گیا گو یا شراب ہے اورپیالہ نہیں اور پیالہ ہے شراب نہیں۔
عیسائیوں نے حضرت سیِّدُنا عیسٰی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کواسی نظرسے دیکھاتوانہیں آپ علیہ السلام میں انوارالٰہیہ چمکتے ہوئے نظرآئے جس سے ان کومغالطہ لگاجیسے کوئی شخص شیشے یاپانی میں ستارے کودیکھے اوریہ خیال کرے کہ ستارہ شیشے یاپانی میں ہے،اور اپنا ہاتھ بڑھاکراسے پکڑناچاہے ،توایسا شخص دھوکے کا شکارہے۔
(مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں)راہِ سلوک پر چلنے میں اس قدر دھوکے اورمغالطے ہیں جوکئی جلدوں میں بھی نہیں آسکتے شاید جو کچھ ہم نے ذکرکیا اس کو بھی چھوڑنازیادہ بہترتھا کیونکہ اس راستے پر چلنے والے کو دوسروں سے سننے کی ضرورت نہيں ہوتی اور جو اس راستے پرچلنے والانہیں اسے سننے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ بعض اوقات اسے نقصان ہوتاہے کیونکہ جب وہ ایسی بات سنتاہے جس کوسمجھ نہیں پاتا اور گھبرا جاتاہے لیکن اس کے سننے والے کوایک فائدہ ہے کہ وہ سنے اور توفیقِ خدا وندی اس کے شاملِ حال رہے، اوروہ یہ بات جان لے کہ جوکچھ اس کے مختصرذہن، ناقص خیال، مزین سوچ میں ہے معاملہ اس سے بلند ترہے اور اولیاء کرام کی بتائی ہوئی حکایات ومکاشفات کی تصدیق کرے لیکن جس پربدبختی غالب ہواوراس کے گناہوں نے اس کو گھیر لیابقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔ ہماری راہ میں قتل کیاجائے۔ انہوں نے کہنا شروع کیا، ''اَنَا لَاَحَقُ'' بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزاوار(یعنی حق دار)ہوں۔'' لوگوں کے سننے میں آیا، ''اَنَا الْحَقُ'' (یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ)دعوی خدائی سمجھے، اور یہ(یعنی خدائی کادعوی) کفرہے۔ اور مسلمان ہوکر جوکفرکرے مرتدہے اورمرتد کی سزاقتل ہے۔'' (صحیح البخاری،کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم، ص۵۷۷ ،حدیث نمبر ۶۹۲۲پر ہے کہ)رسول اللہ( عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ) فرماتے ہیں:''مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہ، فَاقْتُلُوْہ، ترجمہ :جواپنادین بدل دے اسے قتل کرو۔''(فتاوی رضویہ ،ج۲۶، ص۴۰۰)