ترجمۂ کنزالایمان:مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے ۔ (پ7الانعام :76)
اسی طرح آپ علیہ السلام ہررکاوٹ سے آگے بڑھتے گئے اورجب اس لامحدود ولامنتہی بارگاہ میں پہنچے توآپ علیہ السلام کا دوسروں سے طمع ختم ہوگیااور ارشاد فرمایا:(آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مبارک قول اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے مقدس کلام میں ذکر فرمایا)اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ
ترجمۂ کنزالایمان:میں نے اپنامنہ اس کی طرف کیاجس نے آسمان او ر زمین بنائے۔ (پ7،الانعام:79)
او رسالک اس وقت تک اِن انواروحجابات تک نہیں پہنچتاجب تک وہ اپنے نفس کے حجابات سے نہ نکل جائے اوریہ بھی امرِ ربانی ہے بلکہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے انوارمیں سے ایک نورہے، اِس سے مراد دل وروح کاوہ راز ہے جس پر حقیقتِ حق پوری طرح ظاہرہوتی ہے حتیّٰ کہ اس میں تمام عالم کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اسے گھیرلیتاہے اوراس میں سب کی صورت جھلکنے لگ جاتی ہے یہاں تک کہ اُسے لوحِ محفوظ کہاجاتا ہے۔جب سالک اس تک پہنچ جاتاہے تواس کانورپوری طرح چمکتاہے، اس وقت اس میں ہر چیز کاوجوداپنی اصل حقیقت وماہیت کے ساتھ ظاہرہوجاتاہے اوریہ پہلے مرحلے میں ایک فانوس کے پیچھے ہوتا ہے جو اس کے لئے ڈھانپنے والے کی طرح ہوتا ہے،جیسا کہ اِس پرقرآن مجیددلالت کرتاہے، جب اس کانورروشن ہوتاہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نور کی تجلی کے بعدجب اس کا جمال دِل میں منکشف ہوتاہے توبسا اوقات صاحبِ قلب اپنے دل کی طرف متوجہ ہوجاتاہے اور اس میں ایسا واضح جمال دیکھتاہے جو اسے دہشت زدہ کر دیتا ہے اوربعض اوقات اسی شک و شبہ اوردہشت کے عالم میں اس کی زبان سبقت لے جاتی ہے اوروہ کہہ دیتاہے:'' میں حق ہوں۔''۱؎
پس اگراللہ عَزَّوَجَلَّ کی توفیق اس کی رفیق ہو اور الطافِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ اس کی پشت پرہوں تووہ چلتارہتاہے ،وہاں کھڑانہیں۱؎:اعلیٰحضرت ،امام اہلسنت، مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہيں:''حضرت سیدی حسین بن منصور حلاّج قدس سرہ، جن کو عوام ''منصور''کہتے ہیں، منصور اِن کے والد کانام تھا، اوران کااسم گرامی حسین۔(آپ )اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدَرَجَہا مرتبۂ ولایت ومعرِفت میں زائدتھیں۔ وہ آخرشب کوجنگل تشریف لے جاتیں اوریادِالٰہی( عَزَّوَجَلَّ)میں مصروف ہوتیں۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کونہ پایا، گھرمیں ہر جگہ تلاش کیا، پتانہ چلا، اُن کووسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہے۔ وہ اپنے وقت پراُٹھ کرچلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہولئے، دیکھتے رہے۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کاجام اُترا اوران کے دہن مبارک(یعنی مُنہ شریف)کے برابرآ لگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبرنہ ہو سکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے ۔بے اختیارکہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں اﷲ ( عَزَّوَجَلَّ)کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑدو، انہوں نے ایک جُرعَہ (یعنی ایک گھونٹ) چھوڑ دیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہرجڑی بوٹی ہردرودیوارسے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کازیادہ مستحق ہے کہ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر