| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
(۵)۔۔۔۔۔۔کچھ صوفیاء ایسے بھی ہیں جو ان سب سے آگے بڑھ گئے اور معرفت کی راہ میں انہیں جو انوار عطا ہوئے ان کی طرف توجہ نہ دی،نہ ان عطیات کی طرف متوجہ ہوئے جوانہیں میسر آئے اورنہ اُن پرہی خوشی کااظہارکرکے اس راہ سے ہٹے بلکہ وہ مسلسل سفرکرتے رہے یہاں تک کہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب عطا ہوگیا اورقرب کی حد تک پہنچ گئے اور انہوں نے اس وقت یہ گمان کیاکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تک پہنچ چکے ہیں حالانکہ وہ دھوکے میں مبتلاہوئے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سترنورانی پردے ہیں اورجب کوئی سالک (یعنی معرفت کی منازل طے کرنے والا ) ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی پہنچتا ہے تو وہ گمان کرتاہے کہ وہ حق تعالیٰ تک پہنچ گیا۔شاید جو قول اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ذکر فرمایا اُس میں اسی طرف اشارہ ہے:
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰکَوْکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:پھرجب ان پررات کااندھیراآیاایک تارا دیکھابولے اسے میرارب ٹھہراتے ہو۔(پ7،الانعام:76)
اس سے آسمانی ستارہ مرادنہیں کیونکہ ان ستاروں کو توآپ علیہ السلام بچپن میں بھی دیکھتے تھے اور ان کو پہچانتے تھے اور یہ بھی معلوم تھا کہ یہ معبودنہیں کیونکہ یہ ایک نہیں، بہت سے ہیں پھرحضرت سیِّدُنا ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام ستارے سے کیسے مغالطہ کھاسکتے تھے جبکہ اس سے ایک عام اورجاہل شخص بھی دھوکا نہیں کھاتا۔بلکہ اس سے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مراد انوارِ خداوندی میں سے ایک نورتھااوریہ پہلاحجاب ہے جوسالک کے ر استے میں آتا ہے۔ جب تک ان پردوں کوعبورنہ کرلیاجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ تک پہنچنے کاتصور ہی نہیں کیا جا سکتااوریہ نور کے پردے ہیں،جوقرب وبُعدکے اعتبارسے بعض چھوٹے بعض بڑے ہوتے ہیں، انوار سماویہ میں سب سے چھوٹے ستارے ہی ہيں، اس لئے(اَنوارِ الٰہیہ میں سے)پہلے نور کے لئے بطورِاستعارہ اس کانام استعمال کیاگیاکیونکہ یہ ان انوارمیں سے سب سے چھوٹا ہے، سب سے بڑاسورج اوراِن دونوں کے درمیان چاندہے۔ جب حضرت سیِّدُناابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے آسمانِ دُنیاکودیکھاجیساکہ ارشادِخداوندی ہے:وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ
ترجمۂ کنزالایمان:اوراسی طرح ہم ابراہیم کودکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں کی۔ (پ7،الانعام:75)
توایک نورکے بعددوسرانوراورایک حجاب کے بعد دوسراحجاب آتاگیا، جب بھی آپ علیہ السلام کے لئے انوارالٰہیہ عَزَّوَجَلَّ میں سے کچھ ظاہر ہوا توآپ علیہ السلام نے اس کی عظمت اورنورکامشاہدہ کیااوریہ خیال کیا کہ وہ حقیقت تک پہنچ گئے ہیں تو فرمایا: ''ہٰذَا رَبِّیْ (پ۷ ،انعام:۷۶)ترجمۂ کنزالایمان:اسے میرارب ٹھہراتے ہو۔''
چنانچہ نورِنبوت اورتوفیقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے آپ علیہ السلا م پر ظاہرہواکہ آپ علیہ السلام کے آگے نورہے۔ اس کے بعد جب بھی آپ علیہ السلام پر کوئی اعلیٰ درجہ ظاہرہوا تو آپ پر یہ بھید کُھلا کہ پچھلا درجہ کمال کی چوٹی سے نچلے درجے پر ہے اورآپ