| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جان لیجئے! ہمیشہ گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ دن رات اطاعت میں مشغول رہنے والا عقلمند،صاحبِ بصیرت برے خاتمہ سے خوفزدہ رہتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے التجا کرتا ہے کہ وہ اسے دنیاو آخرت میں پختہ قول کے ساتھ ثابت قدم رکھے اور وہ تقدیرکی ہلاکتوں سے ڈرتاہے۔
اگرتم سوال کروکہ امیدکی جگہ کہاں ہے؟ توہم جواب دیں گے کہ بے شک امیدوخوف دوعلامتیں ہیں ،ہرایک کا اپنا مقام ہے اوراُمیدکے دو مقامات ہیں،اُن میں سے ایک یہ ہے کہ جب انسان گناہوں کی کثرت کے سبب بخشش کو بعیدسمجھے اور شیطان اسے دھوکے سے گمراہ کرکے رحمت سے مایوس کرے تو وہ توبہ کے ذریعے اپنی بخشش کی اُمیدرکھے اور دوسرا مقام یہ ہے کہ وہ اپنے لئے جنت کی نعمتوں اوربلنددرجات کی امیدرکھے جس طرح احادیث میں واردہے تاکہ وہ صرف فرائض پراختصارنہ کرے۔شیطانی دھوکے کے شکار لوگوں کی اقسام:
اب ہم شیطان کے دھوکے میں مبتلاہونے والے لوگوں کی اقسام بیان کرتے ہیں۔
علماء: ان کے شیطانی دھوکے میں مبتلاہونے کاذکرکتاب العلم میں گزرچکا ہے ،''علماء باللہ'' وہ ہیں جن کے علم میں اضافے کا سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف ہو،نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''أنَا أعْلَمُکُمْ بِاللہٖ وَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہٖ
ترجمہ: مجھے تمہاری نسبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کازیادہ علم ہے اورتم سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہوں۔''
(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب مالم یواجہ ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۱۰۱،ص۵۱۵، بتغیرٍ قلیلٍ)
اورجس عالم کواپنے باطنی عیوب کاعلم نہ ہویاوہ جانتاہو لیکن ان عیوب کوزائل کرنے کی کوشش نہیں کرتاوہ دھوکے میں مبتلا ہے اوراسے اس کاعلم یقینافائدہ نہیں دے گا۔
عابدین :اور وہ لوگ جو مختلف قسم کی عبادات میں مشغول ہیں ،یہ دھوکے سے محفوظ نہیں سوائے کچھ عقل مندلوگوں کے، جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہدایت کی توفیق بخشی۔ان(یعنی دھوکے میں پڑنے والوں) میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے فرائض میں کوتاہی برتی اورسنتوں کو ان کے احکام وشرائط کے ساتھ ضائع کیا۔ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جووسوسے کی وجہ سے وضو کرتا اور لباس کوپاک کرنے میں مصروف رہتا ہے یہاں تک کہ فرض کاوقت ختم یاتنگ ہو جاتا ہے۔
ان میں سے بعض وہ ہیں جن کی نیت صحیح نہیں ہوتی،اس میں وسوسہ غالب رہتاہے یہاں تک کہ ان کی جماعت فوت ہوجاتی ہے۔ اوران میں سے بعض وہ ہیں جنہیں وسوسے سورۂ فاتحہ دوبارہ پڑھنے پرابھارتے ہیں تووہ کہتے ہیں:'' بے شک ہم تو حروف کو مخارج کے ساتھ پڑھتے ہیں اوردوسری طرف توجہ نہیں دیتے، ان جیسوں کی مثال اس قاصدکی سی ہے جسے خط دے کر