| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رزق کے معاملہ میں اپنی ذات پر توکل اور بھروسہ کرنے کاحکم فرمایااوربندہ اس معاملے میں تو توکّل نہ کرے اور اس نے آخرت کے لئے عمل کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس معاملے میں توکّل کرے تو یہ انتہائی درجے کا تضاد ہے اور جو شخص اپنے آباؤاجداد کی پرہیزگاری اور نسبی تقوی پر بھروسہ کرتا ہے اسے چاہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں غور کرے جوحضرت سیِّدُنا نوح علیہ السلام کو فرمایا گیا:
اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ۫٭ۖ
ترجمۂ کنزالایمان: وہ تیرے گھر والوں میں نہیں، بے شک اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔ (پ12، ھود:46)
نبئ اَکرم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان میں غور کرے جب آپ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کی زیارت اور ان کے لئے بخشش طلب کی تو آپ کو زیارت کی اجازت دی گئی لیکن استغفار کی اجازت نہ ملی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم روپڑے۔''۱؎
حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:'' عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کو کمزور کردے اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لئے عمل کرے اور بے وقوف وہ ہے جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے لمبی امیدیں رکھے ۔''(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب الکاف، الحدیث ۴۹۶۶،ج۲،ص۱۸۵الاحمق بدلہ العاجز)
۱ ؎:امام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ الوالی
'' التعظیم والمنۃ فی ابوی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم فی الجنّۃ''
میں تحریرفرماتے ہیں: ''استغفار کی اجازت نہ ملنے والی حدیث سے اُن(یعنی والدین مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کا کفر لازم نہیں آتا کیونکہ ابتدائے اسلام میں نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مقروض کا جنازہ پڑھنے اور اس کے لئے استغفار کرنے سے منع فرمایا گیاتھا حالانکہ وہ مسلمان ہی ہوتا ہے۔
استغفار کی اجازت نہ ملنے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا باوجود یکہ توحید پرست تھیں، جنت سے برزخ میں ایسے امور کی وجہ سے رکی ہوں جو کفر نہ ہوں، اس بات کا تقاضا تھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو استغفار کی اجازت نہ دی جائے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اس بارے میں اجازت دے۔''
یا دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بلاشبہ موحِّدہ تھیں مگر ان تک معاد وبعثت کا معاملہ نہ پہنچا تھا اور یہ بہت بڑی اصل ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ فرمایا تاکہ بعثت اور تمام شریعت پر ایمان لائیں یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے زندہ کرنے کوحجۃ الوداع تک مؤخر کر دیایہاں تک کہ شریعت کی تکمیل ہوگئی۔جب یہ آیت نازل ہوئی:''اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ
ترجمۂ کنز الایمان: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا(پ۶،المآئدۃ:۳)۔ توان کو زندہ کیا گیا اور وہ تمام نازل تعلیمات پر ایمان لائیں، یہ معنی نہایت ہی نفیس اور عمدہ ہے۔''
(التعظیم والمنۃ فی ابوی رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم فی الجنّۃ،،ص۱۱۰،۱۱۱)