Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
291 - 415
    (امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ)یہ لوگ کفار ہیں ،کبھی ان کو ایمان اچانک حاصل ہوتا ہے ، کبھی دلیل و برہان کے ذریعے اور کبھی تقلید سے حاصل ہوتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ مریض صحت کی امید رکھتے ہوئے حکیم کے کہنے پردَوا پیتا ہے لیکن اگر وہ کہے کہ میں اس وقت تک دوا نہیں پیؤں گا جب تک اس کے نفع بخش ہونے کا یقین نہ آجائے تو یہ اس کی ہلاکت کی دلیل ہے۔ حالانکہ عقل توبرے گمان اور محض احتمال سے بچنے کا تقاصا کرتی ہے اور اگر انبیاءِ کرام علیہم السلام کے فرامین اور معجزات اس غور وفکر کرنے والے کو یقین کا فائدہ نہ دیں توکم از کم اسے غالب گمان یا احتمال کا فائدہ بھی نہیں دیتے ،جبکہ عقلمند تو احتمالِ محض سے بھی بچتا ہے۔ اسی لئے امیر المؤمنین،مولیٰ مشکل کشاحضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے کسی ملحد کو دلائل دینے کے بعد اِرشاد فرمایا:'' اگر تمہاراقول صحیح ہے تومیں نے بھی نجات پائی اور تم نے بھی اور اگر میراقول صحیح ہے تو میں نے نجات پائی اور تم ہلاک ہوئے۔''(امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی احیاء علوم الدین میں یہ قول نقل کرنے کے بعدتحریر فرماتے ہیں کہ''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات اس لئے نہیں فرمائی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آخرت پر یقین نہیں تھا بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے اس کی عقل کے مطابق کلام کر کے اس پر واضح کر دیا کہ اگر تمہیں آخرت پر یقین نہیں تو تم دھوکے میں مبتلاء ہو۔'')

    کچھ لوگوں کو ان کے اس قول نے دھوکے میں ڈالا کہ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ رحیم وکریم ہے اور بعض لوگ اپنے آباؤاجداد کے تقوی وپرہیزگاری سے وسیلہ پکڑتے ہیں اور یہ سب ناممکن ہے۔ جبکہ ان کا یہ قول صحیح ہے کہ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ رحیم وکریم ہے لیکن تمام آیاتِ قرآنیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کارحم و کرم یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے دنیا میں نیکیوں کی توفیق عطا فرماتا ہے، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ خود اِرشاد فرماتا ہے:
(1) وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ39﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔ (پ27، النجم:39)
(2) فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔(پ 8،الانعام:125)

    پھر بندہ رزق کے معاملے میں اس کے کرم پر اعتماد کیوں نہیں کرتا حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے ۔(پ28،الطلاق:3)

    اوراللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔v
Flag Counter