Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
290 - 415
باب30:     غرور(یعنی خوش فہمی) کی مذمت کا بیان
    جان لیجئے! یہ ہلاکت کے اسباب میں سب سے واضح سبب ہے۔
غرور (یعنی خوش فہمی) کے شکارلوگوں کی اقسام:
    اس میں مبتلا لوگوں کی بہت سی اقسام ہیں۔ہم ان میں سے چار اقسام ذکر کرتے ہیں۔

    (۱)۔۔۔۔۔۔علماء (۲)۔۔۔۔۔۔عابدین(۳)۔۔۔۔۔۔صوفیاء اور(۴)۔۔۔۔۔۔دُنیا دارو مالدار۔
غرور کی مذمت پرآیات کریمہ:
    اللہ ربُّ العزّت جَلَّ جَلَالَہٗ کا فرمانِ عالیشان ہے:
 (1) فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿33﴾
ترجمۂ کنزالایمان: تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہر گز تمہیں اللہ کے علم(نام) پر دھوکا نہ دے وہ بڑافریبی ۔(پ21، لقمٰن:33)
(2) وَ غَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمْرُ اللہِ وَ غَرَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿14﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور جھوٹی طمع نے تمہیں فریب دیا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا۔(پ27،الحدید:14)
غرور کی مذمت پراحادیث ِمبارکہ:
    حضور نبئ رحمت،شفیعِ اُمَّت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:'' عقلمند لوگوں کی نیند اور روزہ نہ رکھنا کیا ہی خوب ہے، یہ لوگ بیوقوفوں کی شب بیداری اور کوشش کو کس طرح ناقص کرتے ہیں اورصاحب ِ یقین و تقوی کا ذرہ برابر عمل دھوکے کے شکار لوگوں کے زمین بھر عمل سے افضل ہے۔''
   (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الیقین، الحدیث۸،ج۱،ص۲۳، بتغیرٍ)
    خوش فہمی یہ ہے کہ بندہ حقیقت کے خلاف چیزکا اعتقاد رکھے، یہ جہالت کی ایک قسم ہے اور نفس کا اس چیز سے سکون حاصل کرنا ہے جواس کے خیال میں خواہش کے موافق ہو لہٰذا وہ شخص بھی دھوکے کا شکار ہے جسے اُس کا فاسد گمان اس دھوکے میں مبتلا کرتا ہے کہ یہ دنیا نقد اور یقینی ہے جبکہ آخرت کا معاملہ اُدھار اورشک کا ہے لہٰذا ہم اُدھار اور شک کے لئے نقد اوریقین کو نہیں چھوڑ سکتے۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس فرمان میں اسی طرف اشارہ فرمایا:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ۫ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ
ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مول لی تو نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو۔ (پ27، النجم:39)
Flag Counter