Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
289 - 415
    سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:
ثَلَاثٌ مُھْلِکَاتٌ شُحٌّ مُطَاعٌ وَھَوًی مُتَّبَعٌ، وَإعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِہٖ۔
ترجمہ:تین باتیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں:(۱)بخل، جس کی پیروی کی جائے (۲) خواہش، جس کی اتباع کی جائے اور (۳) آدمی کا اپنے نفس پر اِترانا۔
(المعجم الاوسط، الحدیث۵۴۵۲، ج۴،ص۱۲۹)
عُجب کی حقیقت:
    خود پسندی کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے آپ کو علم و عمل میں کامل سمجھنے کی وجہ سے انسان کے دل میں تکبر پیدا ہوجائے۔ اگر اُسے اُس کمال کے زائل ہونے کاخوف ہو تو وہ خودپسند نہیں کہلائے گا اوراسی طرح اگر وہ اس کمال کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت سمجھ کر اس پر خوش ہو تو بھی خودپسندی نہیں بلکہ وہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل پر خوش ہے ۔ اور اگر وہ اس وجہ سے خوش ہو کہ یہ اس کی اپنی صفت ہے اور نہ اس کے زوال کی طرف متوجہ ہو اور نہ یہ سوچے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ہے تویہی چیز خود پسندی کہلاتی ہے اور یہی ہلاکت میں ڈالنے والی ہے۔
عُجب کا علاج:
    خود پسندی کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے انجام میں غور کرے اور بَلْعَمْ بن بَاعُوْرَاء کے بارے میں غور کرے کہ اس کا خاتمہ کیسے کفر پر ہوا اور اسی طرح ابلیس کی حالت ہے۔پس جس شخص نے برے خاتمہ کے بارے میں غور کیاتو اس کے لئے اپنی کسی صفت کی وجہ سے خودپسندی میں مبتلا ہونانا ممکن ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ۔
Flag Counter