Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
288 - 415
(۴)۔۔۔۔۔۔ مجلس میں عام کام کاج کے کپڑے پہنے کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:
''ألْبَذَاذَۃُ مِنَ الْإیْمَانِ
ترجمہ:پُرانالباس پہنا ایمان سے ہے۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الترجل، باب النہی عن کثیر من الارفاہ، الحدیث۴۱۶۱،ص۱۵۲۶)
    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے:
مَنِ اعْتَقَلَ الْبَعِیْرَ وَلَبِسَ الصُّوْفَ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْکِبْرِ۔
ترجمہ:جس نے اونٹوں کو باندھا اور اُونی لباس پہنا، وہ تکبر سے بچ گیا۔
(شعب الایمان للبیہقی، باب فی الملابس والاو انی، فصل فی التواضع فی اللباس، الحدیث۶۱۶۱،ج۵، ص۱۵۳، بتقدمٍ وتأخرٍ)
    حضور نبئ کریم، رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
مَنْ حَمَلَ حَاجَتَہ، إلٰی بَیْتِہٖ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْکِبْرِ
ترجمہ:جو شخص اپنی ضرورت کی چیز خود گھراٹھا کر لائے،وہ تکبر سے بچ گیا۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی حسن الخلق، فصل فی التواضع،الحدیث۸۲۰۱،ج۶، ص۲۹۲، بتغیرٍ)
    جب تونے یہ جان لیا تو یہ بھی جان لے کہ تمام امور میں میانہ روی بہتر ہے۔

    پس قابلِ تعریف تواضع یہ ہے کہ انسان اپنے ہم مرتبہ لوگوں کے ساتھ بغیر ذِلت کے عاجزی اختیار کرے۔
عُجب(یعنی خودپسندی)کابیان:۱؎
    جان لیجئے! خودپسندی قابل مذمت ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
(1) وَّیَوْمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان: اورحنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے۔(پ10، التوبہ:25)
(2) وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿104﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ ا س خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔(پ16، الکھف: 104)
(3) وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿47﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو اُن کے خیال میں نہ تھی۔(پ24، الزمر:47)
۱؎: عُجب یعنی خودپسندی کی تعریف یہ ہے کہ''اپنے نیک عمل کو بڑا سمجھنااور جس شرف کی وجہ سے اس نیک عمل کی سعادت ملی اس کودل سے اچھاجاننا۔ عجب کا اطلاق اس پر بھی ہوتاہے کہ بندہ نعمتِ خداوندی کا شکرادا نہ کرے اوراسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا احسان نہ مانے بلکہ اس نعمت کو اپنا ذاتی کارنامہ سمجھے۔''

    تکبراورعجب میں فرق یہ ہے کہ ''اگرکسی دو سرے پر خود کو فو قیت دے توتکبر ہوتا ہے اور کسی دو سرے کے مقابلے میں نہ ہو بلکہ کسی کے مقابلے کے بغیر خود کو افضل واعلیٰ سمجھے تو اسے عُجب کہتے ہیں۔''
 (الحدیقۃ الندیۃ، ج۱، ص۵۴۳ ۔۵۹۵)
Flag Counter