(سنن ابن ماجۃ، ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا، باب الاستعاذۃ فی الصلاۃ، الحدیث۸۰۸،ص۲۵۲۵)
اگر تکبر اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہویعنی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکام کی اطاعت نہ کرے تو یہ مکمل کفر ہے، اگررسولوں پر تکبر ہو کہ وہ اپنے جیسے بشر کی اطاعت نہیں کرتا تو یہ بھی مکمل کفر ہے اور تیسری قسم مخلوق پر تکبر کرنا ہے کہ وہ لوگوں پر بڑائی چاہے اورانہیں اپنی خدمت کرنے اور اپنے لئے عاجزی اختیار کرنے کی دعوت دے اور یہ کبریائی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ جھگڑا کرنے کی طرح ہی ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو یہ زیبا نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنی اطاعت کرائے۔ اور اگر تکبر مال و جاہ کے ساتھ ہو تو اس کا علاج پیچھے گزر چکا ہے، اچھی چیز کو دیکھ کر تکبر آنا تو اچھی چیز ہی کے خلاف ہے(یعنی اچھی چیز کودیکھ کر تکبر نہیں آتا) اور اگر تکبر نیکیوں اور علم و عمل کی وجہ سے ہو تو اس بارے میں حقیقت یہ ہے کہ یہ بات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہو۔ جب انسان اعمال کے ساتھ لوگوں پر تکبر کرتا ہے تو گویا اس نے اپنا اَجر وصول کر لیا جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ پس قریب ہے کہ اس کا اجر ضائع ہو جائے اور یہی اس کے علاج کا طریقہ ہے۔ اوروہ جو اپنے اندر خیالات پاتا ہے اس کے مقابلہ میں اسے راحت حاصل ہوگی۔پس جب اس کا نفس لوگوں پر برتری چاہنے پر ابھارے تو اسے عاجزی کا پیکر بننا چاہے اور اس پر استقامت اختیار کرنی چاہئے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ا سے اس سے نجات عطا فرمائے اور جب بھی اس کا نفس تکبر سے خلاصی چاہئے تو اسے چار امور کے ساتھ اپنے نفس کو آزمائے:
(۱)۔۔۔۔۔۔ کیاوہ کسی دوسرے کی زبان پر حق کے ظاہر ہونے سے غصہ میں آتا ہے یا نہیں؟ اور کیا وہ بلندی چاہتا ہے یا نہیں؟
(۲)۔۔۔۔۔۔ وہ محافل میں اپنے ہم عصروں کو اپنے سے مقدم جانے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ وہ کھانا وغیرہ ضرورت کی اشیاء خود اپنے گھر اٹھا کر لائے کہ یہ سنت ہے اور اپنے گھر کے کام کاج میں اپنے غلام کا ہاتھ بٹائے اور اس کے ساتھ مل کرکھانا کھائے، یہ سب سنت ہے۔ اور فقراء کی دعوت کو قبول کرنا ، ان کے ساتھ بازار جانا اور ان کے ساتھ ان کی ضروریات پوری کرنا اسی سے ہے۔