Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
286 - 415
 باب29:            تکبر اورعُجب (یعنی خود پسند ی)کی مذمت

تکبرکا بیان:۱؎
    اس میں چندفصول ہیں: جان لیجئے! تکبر مذموم ہے۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے:
 (1) وَاسْتَفْتَحُوۡا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ15﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اورا نہوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نامراد ہوا۔ (پ 13، ابراھیم:15)
(2) سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اورمیں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دو ں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔(پ9، الاعراف:146)
(3) کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿35﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ یوں ہی مہر کردیتاہے متکبر سر کش کے سارے دل پر۔ (پ24،المؤمن:35)

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنَ الْکِبَرِ۔
ترجمہ:جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، الحدیث۲۶۷،ص۶۹۴)
    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا،'' اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
ألْکِبْرِیَاءُ رِدَائِیْ، وَالْعَظْمَۃُ أزَارِیْ،فَمَنْ نَازَ عَنِیْ وَاحِداً مِنْھُمَا ألْقَیْتُہ، فِیْ جَہَنَّمَ۔
ترجمہ: بڑائی میری چادر اور عظمت میرا ازار ہے، توجس نے ان دونوں میں سے کسی ایک میں مجھ سے جھگڑا کیا میں اسے جہنم میں پھینک دوں گا۔
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب البرأۃ من الکبر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۴۱۷۴،ص۲۷۳۱)
۱؎:''خودکودوسروں سے افضل واعلیٰ اوربہترسمجھ کرخوش ہونا''تکبر'' کہلا تاہے۔''    (الحدیقۃ الندیۃ،ج۱ ، ص۵۴۳)
Flag Counter