Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
285 - 415
کے دیکھنے کی وجہ سے عبادت کو تر ک کرنا ریا ء ہے اورلوگوں کے لئے عبادت کرنا نفاق محض ہے۔

    جان لیجئے! بعض عبادات ایسی ہیں جو مخلوق کے متعلق ہیں جیسے خلافت امامت ، سلطنت ، تدریس اور وعظ وغیرہ۔ چنانچہ ،شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کافرمانِ عالیشان ہے:
لَیَوْمٌ مِنْ إمَامٍ عَادِلٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَۃِ الرَّجُلِ وَحْدَ ہٗ سِتِّیْنَ عَامًا۔
ترجمہ:عادل حکمران کا ایک دِن عام آدمی کی ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
(المعجم الکبیر، الحدیث۱۱۹۳۲،ج۱۱،ص۲۶۷، مفہوماً)
    جان لیجئے! بے شک متقی لوگ ان عہدوں سے دو ر بھاگتے تھے کیونکہ ان میں بہت بڑے خطرے ہیں اس لئے کہ اس میں با طنی صفات کو مال ،جاہ ومرتبہ کی محبت اور دیگر آفات کے ساتھ حرکت ہوتی ہے، اسی لئے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
مَامِنْ وَالِیْ عَشِیْرَۃٍ إلَّا جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُوْلَۃً یَدُہٗ إلٰی عُنُقِہٖ أطْلَقَہ، عَدْلُہٗ أوْ أوْبَقَہ، جَوْرُہ،۔
ترجمہ:جو شخص کسی خاندان کا والی ہووہ بروزِ قیامت اس حال میں آئے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہو گا اس کا انصاف اسے چھوڑائے گا یا اس کا ظلم اسے ہلاک کردے گا۔
(حلیۃ الاولیاء، راشد بن سعد، حدیث۸۰۵۳، ج۶،ص۱۲۷)
    پس عاقل کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ خطرہ کی جگہ سے بھاگے لہٰذا انسان اپنے نفس میں غور کرے ، اگر ثواب کی طلب غالب ہے تو امارت قبول کرے اور اس کی علامت یہ ہے کہ جب کوئی اس کا قائم مقام ظاہر ہوجائے اور اسے کفایت کرے تووہ اسے غنیمت سمجھے اور اس سے غصہ نہ کرے،اس بات کو سمجھ لو فائدہ ہوگا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
Flag Counter