ریاء کاعلاج اوراُسے دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ یہ بات جان لے کہ ریاء کا سبب مال کی محبت ،جاہ ومرتبہ اورحبِّ مدح ہے جس کا ذکرپہلے گزر چکا ہے اوراس کے بعدیہ چیز ریاء دور کرسکتی ہے کہ اسے غور کرنا چاہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے باطن پر مطلع ہے اور عنقریب اس سے فرمائے گا:''میں تیرے خیال میں سب دیکھنے والوں سے ہلکا تھا۔'' جب وہ اس بات میں غور کریگا کہ اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہی لوٹنا ہے اور ریاکاری کا سلسلہ تو موت کے ساتھ ختم ہو جائے گا تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اسے ترک کرنا ہی بہتر ہے۔
گناہ چھپانے کی رُخصت:
جان لیجئے!اخلاص کی اصل یہ ہے کہ ظاہر وباطن یکساں ہوں ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''علانیہ عمل کو اپنے اوپر لازم کرلو۔''صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ''اے امیر المؤمنین ! علانیہ عمل کیا ہے ؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''جب کوئی شخص اس پر مطلع ہو تو تمہیں اس سے حیاء نہ آئے۔''
سیِّدُ المبلغین، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ اِرْتَکَبَ شَیْئًامِنْ ھٰذَہٖ الْقَاذُوْرَاتِ فَلْیَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللہِ تَعَالٰی۔
ترجمہ:جو شخص ان ناپاک کاموں میں سے کسی عمل کا ارتکاب کرے تو اسے چاہے کہ اس پر پردہ ڈال دے جیساکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پردہ ڈالا۔
ترجمہ:جو شخص ان ناپاک کاموں میں سے کسی عمل کا ارتکاب کرے تو اسے چاہے کہ اس پر پردہ ڈال دے جیساکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پردہ ڈالا۔
انسان کوچاہے کہ وہ دوسرے لوگو ں کے گناہ میں مبتلا ہونے کواسی طرح ناپسند کرے جس طرح وہ اپنے آپ سے گناہ کے ارتکاب کو ناپسند کرتاہے۔
ریا ء کے خوف سے عبادات کو چھوڑنا جائز نہیں:
(حضرت سیِّدُناامام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ)''جب اصل ریاء عبادت پر برانگیختہ تونہ کرے مگر اسے دورانِ عبادت ریاء میں پڑنے کا خوف ہو تو اسے چاہے کہ وہ عبادت کوترک نہ کرے کیونکہ شیطان کا مقصد عبادت چھوڑنے سے حاصل ہوتا ہے بلکہ اسے عبادت کو بجا لانا چاہئے اور ریا ء کو اس کی دواء سے دور کرنا چاہئے۔'' اسی وجہ سے بعض علماء کا یہ قول ہے کہ مخلوق