ترجمہ:ہاں، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندے کو پسند فرماتا ہے کہ وہ اپنے دوستو ں کی طرف جاتے وقت ان کے لئے زینت اختیار کرے۔''
بے شک حضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ عمل عبادت کے طو ر پر تھا کیونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مخلوق کو دعوت دینے پر مامور تھے اور اگر ان لوگو ں کی نگاہوں میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا کوئی مقام نہ ہوتا تو وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی دعوت قبول نہ کرتے۔
جان لیجئے! ریاء کی مختلف صورتیں ہیں، اگر عبادت کرنے کا مقصد دِکھاوا ہو تو یہ قطعی طو رپر عبادت کو باطل کردیتا ہے اور اس کی عبادت کی نیت میں ریاء غالب ہو تو یہ بھی ریاء کے حکم میں داخل ہے لیکن اگرثواب اور ریاء دونوں کا ارادہ برابر ہو کہ اس میں سے ہر ایک کا مستقل ارادہ ہو تواس نے نجات پائی ،نہ اس کے لئے ثواب ہوگا نہ عذاب اور اس نے نفع پایا۔ اگراصل عبادت کا ارادہ ہو لیکن ریاء اس پر غالب ہواگرچہ ریاء عبادت پر مقدم نہ ہواور اسی طرح اگرریاء تو ہو مگر عبادت کے ارادے کی وجہ سے نہ ہو توان دونوں صورتوں میں شاید اس کا اصل عمل تو ضائع نہ ہوگا لیکن اس کے ثواب میں کمی ہوگی یا اس کو ریا ء کے مطابق سزا ہو گی اور نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مندرجہ ذیل فرمانِ عالیشان اس کے دو نوں ارادوں کے برابر ہونے پر محمول کیا جائے گا اور آخری قسم اس سے نکل جائے گی۔
چنانچہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان حکایت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:''أنَا أغْنَی الْاَغْنِیَاءِ عَنِ الشِّرْکِ ترجمہ: میں سب سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ ''