| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
کرنے سے مراد جلا لتِ علمی کے اظہار کے لئے وعظ ونصیحت میں مسجع ومقفّیٰ(یعنی فصاحت و بلاغت سے بھر پور) الفاظ استعمال کرنا ہے لیکن اگر اس سے ارادہ یہ ہو کہ لوگ اس طرح دین کے قریب ہوں گے تو درست ہے اور اسی طرح کبھی اصل وعظ میں وعظ کرنے والے کی نیت درست ہوتی ہے تو اس صورت میں اس قسم کے الفا ظ کا استعمال جائز ہے۔
اصل عبادت میں ریاء کاری یہ ہے کہ انسان لوگو ں کے درمیان ہو تو طویل رکوع وسجود کرے تاکہ لوگ اسے عبادت گزار اورمتقی سمجھیں ا ور کبھی وہ خلوت میں بھی اس چیز کا تکلف کرتا ہے تا کہ لوگو ں کے سامنے بھی اس طرح کر سکے اور سمجھتا ہے کہ اس نے گھر میں طویل رکوع وسجدہ کرلیا اس لئے وہ ریاء سے بچ گیا اوراگر اس کا یہی عزم ہو توبھی وہ دکھاوے میں مزید آگے نکل گیا اور وہ اس میں مخلص نہیں،پس ریاء کی صحیح تعریف یہی ہے کہ اس سے مراد جاہ ومرتبہ کا طلب کرنا ہے خواہ وہ عبادات کے ذریعے ہویا بغیر عبادت کے،اگر بغیر عبادت کے ہو جیسا کہ مال میں سے حلال طلب کرناتووہ حرام نہیں مگر یہ کہ وہ مال دھوکا کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو اور یہ چیز مال اورمرتبہ دونوں میں برابر حرام ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ حبِّ جاہ مکمل طور پر حرام ہے کیونکہ زندگی گزارنے کے لئے کچھ نہ کچھ جاہ ومرتبہ کی ضرورت ہوتی ہے جس طر ح حاجت کو پورا کرنے کے لئے تھوڑا مال کمانا جائز ہوتا ہے اور حضرت سیِّدُنا یوسف علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام کے فرمان سے یہی مراد ہے، جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے فرمان میں ذکر فرمایا:قَالَ اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿55﴾
ترجمۂ کنزالایمان: یوسف نے کہامجھے زمین کے خزانوں پر کردے بے شک میں حفاظت والا علم والا ہوں ۔ (پ13، یوسف:55)
پس جاہ ومرتبہ میں زہر وتریاق(یعنی نفع ونقصان) دونوں ہيں جیسا کہ مال کے بارے میں گزر چکاہے اور جس طر ح مال کی کثرت انسان کو سر کش اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی یادسے غافل کردیتی ہے اسی طرح زیادہ جاہ ومرتبہ کامعاملہ ہے لیکن اگر تمہاری خواہش کے بغیر تمہیں بہت زیادہ عزت مل جائے، اوروہ تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل نہ کرے ۔پس تیرا اسے استعمال کرنااسی طرح ہے جس طرح سخاوت ،ایثار اور مخلوقِ خدا کو نفع پہنچانے کے لئے مال کا استعمال کرنا ہے۔ اس کا وہی حکم ہے جومالِ کثیر کا ہے جو پہلے گزر چکا ہے کیونکہ انبیاء کرام علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام اور ائمہ عظام وخلفاء راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عزت سے بڑھ کر عزت کا حصول ممکن نہیں لیکن انسان کو چاہے کہ اسے یہ چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل نہ کرے اور نہ اس کے زوال پر اسے کوئی دکھ ہو، اس کا لوگوں کے پاس جاتے وقت اچھے کپڑے پہننا ریا ء تو ہے لیکن یہ حرام نہیں کیونکہ اس میں عبادت کے ذریعے ریاء نہیں اور ا س پر ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت دلیل ہے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسولِ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پانی