Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
281 - 415
کے بارے میں کچھ کہنے سے اپنی زبان روک کر رکھو،اپنے گناہوں کو اپنے اوپر ڈالو، دوسروں کے ذمہ نہ لگاؤ، ان کو برا بھلاکہہ کر اپنی پاکیزگی کا اظہار نہ کرو، اپنے آپ کو ان پر بلند نہ سمجھو، دنیو ی عمل کو آخرت کے عمل میں داخل نہ کرو، اپنی مجلس میں تکبر نہ کرو تاکہ لوگ تیرے برے اخلاق سے بچے رہیں،تیسرے آدمی کی موجودگی میں کسی سے سر گو شی نہ کر و، لوگوں پر اپنی عظمت کااظہار نہ کرو ورنہ تم دنیاوی بھلائی سے محرو م ہوجاؤ گے اور لوگو ں کی بے عزتی نہ کرو ورنہ بروزِ قیامت جہنم میں اس کے کتے تمہیں چیر پھاڑ دیں گے۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:
وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا ۙ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور نرمی سے بند کھولیں۔(پ30، النّٰزِعٰت: 2)

    ''اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو، وہ کون ہیں ؟'' میں نے عرض کی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان!وہ کون ہیں؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''وہ جہنم کے کتے ہیں جو گو شت اور ہڈیوں کو دانتوں سے نوچیں گے۔'' میں نے عرض کی:''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ پرقربان!کون ان خصائل کی طاقت رکھ سکتا اور ان کتو ں سے بچ سکتا ہے ؟''تو آقائے نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے معا ذ! یہ چیز ہر اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ آسان فرمادے ،تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تولوگو ں کے لئے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور ان کے لئے بھی وہی ناپسند کرے جو اپنے لئے نا پسند کرتا ہے۔'' راوی کہتے ہیں:'' میں نے کسی کو حضرت سیِّدُنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے نہیں دیکھا ،وہ اس حدیث کے ڈر سے ایساکرتے تھے۔''
(الترغیب والترھیب، المقدمۃ، باب الترھیب من الریاء۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۵۹،ج۱،ص۴۸تا۵۱)
    حضرت سیِّدُنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کو اس کے عمل پر اتنا ثواب نہیں دیتا جس قدر ثواب نیت پر عطا فرماتا ہے کیونکہ نیت زیادہ پہنچنے والی ہوتی ہے او راس میں ریاء نہیں ہوتی۔''
ریاء کی حقیقت کا بیان:
    ریاء ''رُؤْیَۃٌ ''سے ہے (یعنی دیکھنا ) اورسُمعہ''سِمَاعٌ''سے ہے(یعنی سننا ) ریاء کی اصل یہ ہے کہ اچھے اعمال دکھا کر لوگوں کے ہاں اپنا مقام بنانا اور لوگو ں کے نزدیک مرتبے کا حصول کبھی عبادت کے ذریعے اور کبھی عبادت کے بغیر ہوتا ہے، عبادت کے علاوہ صورتوں میں ریاء یہ ہے مثلاً موٹے کپڑے پہننا ، انہیں پنڈلی کے قریب تک لٹکانا، رنگ کا زرد ہونا ، آنکھوں کو اندر کی طر ف دھنسانا، بالوں کو بکھیر ے رکھنا، آواز کو پست رکھنا، تکلف کے ساتھ وقار وسکون سے چلنا اور چادریں پہننا وغیرہ ، یہ تمام چیزیں عبادت میں بھی ریاء کو شامل ہیں اور جب ان سے دکھاوے کا ارادہ ہو تو یہ حرام ہیں۔اسی طرح علماء کے ریاکاری
Flag Counter