عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایاہے کہ اس کے عمل کو آگے نہ بڑھنے دو ں۔''
پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''پھرفر شتے بندے کانماز ،زکوٰۃ ،حج ، عمرہ اور روزوں کا عمل لے کر اوپر جاتے ہیں،جب وہ چھٹے آسمان تک پہنچتے ہیں تو وہاں کامؤکل فرشتہ کہتا ہے:'' ٹھہرجاؤ او ر اس عمل کوصاحبِ عمل کے منہ پر دے مارو کیونکہ جب کسی بندے کو کوئی مصیبت یاتکلیف پہنچتی تو یہ اس پر رحم نہیں کرتاتھا بلکہ اس کی مصیبت پر خوش ہوتا تھا، میں رحمت کا فرشتہ ہوں ،مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا ہے کہ اس کے عمل کو آگے نہ بڑھنے دو ں۔''
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مزید فرمایا:''پھر فرشتے بندے کا وہ عمل جو رو زہ ، نماز ، نفقہ ، زکوٰۃ ،اجتہاد اورتقویٰ کی صورت میں ہوتا ہے جس کی آواز بجلی کی کڑک اور چمک سورج کی روشنی کی طرح ہوتی ہے اور اس کے ہمراہ تین ہزار فر شتے ہوتے ہیں جب یہ ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں تووہاں کامؤکل فرشتہ کہتا ہے: ٹھہرو، اور یہ عمل صاحبِ عمل کے منہ پر دے مارو، اس کے اعضا ء پر مارو اور اس کے ذریعے اس کے دل پر قفل لگا دو کیونکہ میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو عمل اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے نہ ہو میں اس کے راستے میں رکاوٹ بنوں اس شخص نے اپنے عمل سے غیر اللہ کا ارادہ کیا اس کا مقصد فقہاء کے نزدیک بلندی حاصل کرنا ، علماء کے درمیان تذکرہ اور شہرو ں میں مشہور ہو نے کا تھا اورہر وہ عمل جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے نہ ہو وہ ریاء ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ریا ء کا ر کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔''
پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''پھر فرشتے بندے کی نماز، زکوٰۃ، رو زہ ،حج ، عمرہ ، اچھے اخلاق، خاموشی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر کولے کر اُوپر جاتے ہیں اور اس کے ساتھ آسمانوں کے فرشتے ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ تما م پر دو ں سے نکلتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں اس بندے کے خالص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے کئے ہوئے اچھے اعمال کی گواہی دیتے ہیں ۔''حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سے فرماتا ہے: ''تم میرے بند ے کے اعمال کے نگران ہوجبکہ میں اس کے نفس کی نگرانی کرتاہوں، بے شک اس نے یہ اعمال میرے لئے نہیں کئے بلکہ میرے علاوہ کسی اور کے لئے کئے ہیں، اس پر میر ی لعنت ہے۔''تو تمام فرشتے عرض کرتے ہیں :''اس پر تیری، ہم سب فرشتوں کی ،ساتوں آسمانوں اورجو کچھ اس میں ہے ،سب کی لعنت ہو۔''
حضرت سیِّدُنا معا ذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں اورمیں معاذ ہوں، (مجھے) کیسے نجات حاصل ہوگی ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے معا ذ ! میری اتباع کر و اگرچہ تمہارے عمل میں کمی ہو، اے معا ذ ! اپنے قرآن پڑھنے والے بھائیوں