| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی سند کے ساتھ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے حضرت سیِّدُنامعا ذ بن جبل ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی: ''مجھے کوئی حدیث سنائیے جو آپ نے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنی ہو۔'' راوی فرماتے ہیں:'' حضرت سیِّدُنا معا ذ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ روپڑے یہاں تک کہ میں نے گمان کیاکہ وہ خاموش نہ ہوں گے۔''جب آپ خاموش ہوئے توارشاد فرمایا: میں نے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:''اے معاذ ! میں نے عرض کی:'' میرے ماں باپ آپ پر قربان ! میں حاضر ہوں۔''توپیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں ،اگر تم نے اسے یاد رکھا تو وہ تمہیں نفع دے گی اور اگر ضائع کردیا یا اس کی حفاظت نہ کی تو بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں تمہاری کوئی دلیل کام نہ آئے گی۔''
(پھر فرمایا)اے معاذ! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے سات فرشتے پیدا فرمائے پھر آسمانوں کی تخلیق فرمائی پھر ہر دروازے پر ایک محافظ فرشتہ مقرر فرمایا۔جب اعمال کے محافظ فرشتے بندے کے صبح سے شام تک کے اعمال لے کر اوپر جاتے ہیں اور اس عمل میں سورج کی چمک جیسا نور ہوتا ہے، جب وہ آسمان دنیاتک پہنچتے ہیں اور اس عمل کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں تو پہلے آسمان کا محافظ فرشتہ ان کو روک لیتا ہے اور کہتا ہے:'' اس عمل کوصاحبِ عمل کے منہ پر دے مارو، میں غیبت کا فرشتہ ہوں اور مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے کہ غیبت کرنے والے کے عمل کو یہاں سے آگے بڑھنے نہ دوں۔''
اس کے بعدآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' پھر فر شتے بندے کے دیگر اچھے ا عمال لے جاتے ہیں اور ان اعمال کو کثیر اور پاک سمجھتے ہیں جب دوسرے آسمان تک پہنچتے ہیں تو وہاں کا مؤکل فرشتہ کہتا ہے: ''ٹھہرو اور یہ عمل صاحبِ عمل کے منہ پر دے مارو ،میں فخر کا فر شتہ ہوں، اس شخص نے اپنایہ عمل دنیا کے لئے کیا تھا، مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کے عمل کو یہاں سے آگے نہ بڑھنے دوں کیونکہ وہ لوگوں میں بیٹھ کر اپنے اس عمل پر فخر کرتا تھا۔''
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مزید فرمایا:''پھر فر شتے بندے کے دیگر اعمال مثلاً صدقہ، روزہ اور نماز وغیرہ لے کر جائیں گے اور ان میں ایسا نور چمک رہاہوگا کہ فر شتے بھی حیران رہ جائیں گے،جب تیسرے آسمان تک پہنچیں گے تو وہاں مؤکل فرشتہ کہے گا:'' ٹھہرو، اور اس عمل کو صاحبِ عمل کے منہ پر دے مارو، میں تکبر کا فرشتہ ہوں، مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کے عمل کویہاں سے آگے نہ بڑھنے دوں، وہ مجالس میں لوگوں پرتکبر کیا کرتا تھا۔
پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' پھر فرشتے بندے کا وہ عمل لے کر جاتے ہیں جو ستا رے کی طر ح چمکتا ہے اس میں تسبیح ، نماز او رحج کی آواز ہوتی ہے، جس طر ح شہد کی مکھی کی آواز ہوتی ہے یہاں تک کہ جب وہ اسے لے کر چوتھے آسمان تک پہنچتے ہیں تو وہاں کا مؤکل فر شتہ کہتاہے: '' ٹھہرجاؤ اور اس عمل کوصاحبِ عمل کے منہ پر دے مارو اور اسے اس کی پیٹھ اور پیٹ پرمارو، میں خود پسندی کا فرشتہ ہوں، میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کے عمل کو آگے نہ بڑھنے دو ں کیونکہ یہ شخص جب عمل کرتا تھا تو اس میں خود پسند ی کو داخل کرلیتا تھا۔''
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مزید ارشادفرمایا:''پھر فر شتے کسی اورعمل کو لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ عمل دلہن کی طر ح آراستہ ہوتا ہے یہاں تک کہ جب وہ پانچو یں آسمان تک پہنچتے ہیں تو وہاں کامؤکل فرشتہ کہتا ہے:'' ٹھہرجاؤ او ریہ عمل، عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو اور اس کے کندھوں پررکھ دو، میں حسد کا فر شتہ ہوں، جب کوئی شخص اس کی طرح کچھ سیکھتا یا عمل کر تا تو یہ حسد کرتا تھا اسی طرح کسی بندے کو کوئی فضلیت حاصل ہوتی تویہ اس سے حسد کرتااور اس کی برائی بیان کرتا۔ مجھے میرے رب