Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
278 - 415
(2) فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡ لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿110﴾٪
ترجمۂ کنزالایمان: تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کوشریک نہ کرے۔ (پ16، الکہف:110)

    حضورنبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا:''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! نجات کس چیز میں ہے؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
أنْ لَا یَعْمَلَ الْعَبْدُ بِطَاعَۃِ اللہِ تَعَالٰی یُرِیْدُ بِھَا النَّاسَ۔
ترجمہ:بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت لوگو ں کودکھانے کے لئے نہ کرے۔

    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے: ''مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کاہے۔'' صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! شرکِ اصغر کیا ہے؟'' آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ریاء کاری۔''(پھر فرمایا)بروزِ قیامت جب بندہ اپنے اعمال لے کر حاضر ہو گاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:''ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے لئے دنیا میں دکھاواکرتے تھے اور دیکھو!کیا اُن کے پاس کوئی بدلہ پاتے ہو۔''
    (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث محمود بن لبید، الحدیث۲۳۶۹۲،ج۹،ص۱۶۰)
    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے: ''جُبُّ الْحُزْن( یعنی غم کے کنوئیں)سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگو۔'' صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! وہ کیا ہے ؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
وَادٍ فِیْ جَھَنَّمَ أُعِدَّ لِلْقُرَّاءِ الْمُرَائِیْنَ۔
یعنی یہ جہنم کی ایک وادی ہے جو ریاکارقاریوں کے لئے بنائی گئی ہے۔
(سنن ابن ماجۃ، کتاب السنۃ، باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ، الحدیث۲۵۶،ص۲۴۹۳)
Flag Counter