| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ نے کئی طریقوں سے اس کا علاج کیا مثلاً اُن میں سے کسی نے حلال مشروب پیاجو شراب کے مشابہ ہے، لوگوں نے اسے چھوڑ دیا اور سو چا کہ یہ شراب پینے والا ہے، ان میں سے کوئی شخص زاہد معروف تھا، پس وہ حمام میں گیا اور کسی دو سرے کا لبا س پہن کر نکلا اور راستے میں ٹھہر گیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے پہچا ن لیا اوراسے پکڑ کرلباس اتر وا کرخوب مارا اور کہا:'' یہ شخص چور ہے اور یوں لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا۔''
جاہ ومرتبہ کو تر ک کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگو ں سے علیحدگی اختیار کر کے ایسی جگہ چلاجائے جہاں اسے کوئی نہ جانتا ہو کیونکہ جو شخص اپنے شہر میں گو شہ نشینی اختیار کرتاہے تویہ بھی ریا کی ایک قسم ہے کہ لوگو ں کو اس کی گو شہ نشینی کاعلم ہوگا اور اس سے وہ لوگو ں میں زیادہ مشہور ومعروف ہوجائے گا۔مد ح کو پسند اورمذمت کو نا پسند کرنے سے خلاصی کیسے ممکن ہے ؟
ہم نے بیان کیا ہے کہ جاہ ومرتبہ کی چاہت کا سبب کمال وہمی ہے تب تو نے جان لیا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں سوائے فوری (یعنی دنیاوی) فائدہ کے کچھ فائدہ نہیں جبکہ آخرت میں تو اس کا کوئی فائدہ ہے ہی نہیں۔ اگر مدح کسی دینی امر کے سبب ہو تو یہ بھی اسی طرح حرص ہی ہے کیونکہ دینی معاملے کا کمال تو اچھے خاتمہ کے ساتھ اور اس خطرہ سے چھٹکارے کے بعد ہی ہے ۔
ریاکاری:۱؎
جان لیجئے ! ریا کاری حرام ہے اور ریاء کار پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کاغضب ہوتا ہے، اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے یہ فرامین دلالت کرتے ہیں۔
چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:(1) فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿4﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿5﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ یُرَآءُوۡنَ ۙ﴿6﴾
ترجمۂ کنزالایمان: توان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں وہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔(پ30،الماعون:4تا6)
۱؎:''اخروی امور،اعمالِ صالحہ ،علم دین پڑھنے اورپڑھانے میں دنیاوی فوائد کے حصول کی نیت کرنے کو''ریا'' کہتے ہیں اور اس ارادۂ دنیا کے لئے اس پر کسی قسم کاجبر بھی نہ کیا گیا ہو۔''ابوعبداللہ حارث بن اسد محاسبی علیہ رحمۃاللہ الولی ارشادفرماتے ہیں: ''بندے کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں لوگوں کی نیت کرنا ریاء ہے۔''
(الحدیقۃ الندیۃ،الخلق التاسع من الاخلاق الستین المذمومۃ،ج۱،ص ۴۶۱)