Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
276 - 415
     جان لیجئے! تعریف سے نفس کو خوشی اور فر حت ہوتی ہے کیونکہ تعریف میں اس کے کامل ہونے کا احساس ہوتا ہے اور نفس کامل سے محبت کرتاہے اور اس کے بر عکس مذمت کوناپسند کرتا ہے کیونکہ اس میں ناقص ہونے کا شعور پایا جاتاہے اور نفس ناقص چیز کو ناپسند کرتا ہے۔
حبِّ جاہ کا علاج:
     جان لیجئے! جو جاہ ومرتبہ کی محبت میں مبتلا ہوجائے تو اس کاسارا مقصد حبِّ جاہ اور اس میں مزید اضافہ کی طلب ہی رہ جاتی ہے اور وہ مخلوق کے دلوں کا شکاری بن جاتا ہے اور یہ چیز اسے ریاء اور نفاق کی طر ف لے جاتی ہے، اسی لئے نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے (یعنی مال وجاہ کی محبت کو) دو خونخوار بھیڑیوں سے تشبیہ دی جو بکریوں کے ریوڑ میں ہوتے ہیں ۔''
    (جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ماذئبان جائعان ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۳۷۶،ص۱۸۹۰، ضاریان بدلہ جائعان)
    سیِّدُ المبلغین،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
'' إنَّہ، یُنْبِتُ النِّفَاقَ کَمَا یُنْبِتُ الْمَاءُ الْبَقَلَ
ترجمہ:یہ (یعنی مال وجاہ کی محبت دل میں ) نفاق کو ایسے اُگاتی ہے جیسے پانی سبزی کواُگاتا ہے۔''
 (السنن الکبری للبیھقی، کتاب الشھادات، باب الرجل یغنی۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۱۰۰۸،ج۱۰،ص۳۷۷۔۳۷۸)
    حبِّ جاہ کا علاج علم وعمل دو طریقوں سے ممکن ہے۔

(۱)۔۔۔۔۔۔حبِّ جاہ کا علمی علاج:
    اس کاعلمی علاج یہ ہے کہ انسان یہ بات جان لے کہ اس کامقصد دِلوں پر مالک ہونا ہے اور ہم نے بیان کردیا ہے کہ اگر یہ بات صحیح طور پر حاصل ہو بھی جائے توموت تک باقی رہتی ہے لہٰذا یہ باقی رہنے والے اعمال صالحہ میں سے نہیں بلکہ اگر مشرق ومغرب تک تمام روئے زمین کے لوگ تجھے سجدہ بھی کریں تو پچاس سال تک نہ سجدہ کرنے والے رہیں گے اور نہ تُوباقی رہے گا اور تمہارا حال جاہ ومرتبہ رکھنے والے ان لوگو ں کی طر ح ہو جائے گا جو مر چکے ہیں اور یہ وہمی کمال ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ موت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کولکھا:''امَّا بعد(یعنی حمد وصلوٰۃ کے بعد)! گویا آپ وہ آخری شخص ہیں جس پر موت لکھی گئی ہے اور وہ مر گیا ہے۔'' تو حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب میں لکھا:''امَّا بعد! گویا آپ دنیا میں آئے ہی نہیں اور ہمیشہ آخرت میں رہے ۔''

    ان لوگو ں کی نگاہ انجام کی طرف تھی اور انہیں معلوم تھاکہ جو چیز آنے والی ہے، وہ قریب ہے۔
Flag Counter