| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت سیِّدُنامعا ذ بن جبل ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکار دوعالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قبرِ انور کے پاس روتے ہوئے دیکھا ،پوچھا :کیوں روہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :'' تھوڑا سا دِکھاوا بھی شر ک ہے، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ متقی پوشیدہ رہنے والے لوگو ں کو پسندفرماتا ہے، جب وہ غا ئب ہوں تو لوگ انہیں تلاش نہیں کرتے اور جب کہیں آئیں تو ان کو کوئی پہچانتا نہیں، ان کے دل ہدایت کے چرا غ ہیں، وہ ہر گردآلوداندھیرے مقام سے نجات پاتے ہیں۔''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الفتن، باب من ترجی لہ السلامۃ من الفتن، الحدیث۳۹۸۹،ص۲۷۱۶، ینجون: بدلہ: یخر جون)
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: (اے لوگو!) علم کے چشمے اور ہدایت کے چراغ بنو، گھرو ں کو(چٹائی کی طرح) لازم پکڑو، رات کے چراغ بنو اور تا زہ دِل رہو ، تمہارے کپڑے پرانے ہوں تو اہل آسمان تمہیں پہچا نیں گے اگرچہ تم اہلِ زمین کے نزدیک کمتر سمجھے جاؤ۔''
حبِّ جا ہ کی مذمت :
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد۔(پ 20 ،القصص:83)
جان لیجئے! جاہ ومرتبہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان لوگوں کے د لوں کا مالک ہو جائے جیسا کہ مال دار ہونے کا مطلب درہم ودینار کا مالک ہونا ہے اور جس طر ح صاحب مال اپنے مال کے ذریعے اپنے مقاصد تک پہنچ جاتا ہے، اسی طرح دلوں کا مالک ا س کے ذریعے اپنے مقاصد تک پہنچ جاتا ہے، جاہ ومرتبہ بھی ایک مقصد ہے اور جس طر ح مال مختلف قسم کے پیشوں سے کمایا جاتا ہے اسی طرح مختلف معاملات کے ذریعے دلوں کو اپنی طرف مائل کیا جاتا ہے اور دل پختہ اعتقاد سے ہی مسخر ہوتے ہیں پس جس شخص کے دل میں کسی شخص کے کامل اوصاف کاپختہ یقین ہو جائے تو اس کا دل اس کی طرف مائل ہو جائے گا بلکہ لوگو ں کے دلوں کامالک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنا بندہ و غلام بنانا ہے اور جب مال محبوب ہے تو جاہ ومرتبہ اسے بد رجہ اولیٰ پسند ہوگا۔
جان لیجئے! جاہ ومرتبہ بلندی اور ملکیت کو طلب کرنے والی روح کی غذا ہے جبکہ روح اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عالَم ِ امر سے ہے جو ربو بیت ، بلندی اور لوگو ں کو اپنا بندہ بنانے کا مطالبہ کرتی ہے، کمال کو پسند کرتی اور اسے طلب کرتی ہے، اسی بناء پر تم دیکھتے ہو کہ جو بھی جاہ کا طالب ہوتا ہے وہ اس ارادہ سے جدا نہیں ہوتا(یعنی وہ بلندی وغیرہ کا ارادہ رکھتا ہے )۔