Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
274 - 415
لوگ آپ کے پیچھے ہولئے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طر ف متوجہ ہو کر فرمایا: ''تم میر ے پیچھے کیوں چلتے ہو ؟اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جس وجہ سے میں اپنا دروازہ بند رکھتا ہوں اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو تم میں سے کوئی آدمی میرے پیچھے نہ چلے۔''

    حضرت سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ''اگر مَردوں کے پیچھے لوگوں کے جوتوں کی آوازیں آنے لگیں تو ایسے مواقع پر احمقوں کے دل کم ہی قابو میں رہتے ہیں۔''
گمنامی کی فضیلت:
    سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:
رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ،ذِیْ طِمْرَیْنِ،لَا یُؤبَہ،،لَہٗ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَاَبَرَّہ،،مِنْھُمُ البَرَاءُ بْنُ مَالِکٍ۔
ترجمہ:بہت سے بکھرے بالوں ،گَردآلود چہروں اور دو پرانے کپڑو ں والے لوگ ،جن کو حقیر سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر قسم کھالیں تو وہ اسے ضرورپورا فرماتا ہے، انہی میں سے حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں۔
(جامع الترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب البراء ابن مالک، الحدیث۳۸۵۴،ص۲۰۴۷)
    حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبئ رَحمت،شفیعِ اُمّت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: '' دو بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس کئی لوگ ایسے ہیں جن کی طرف توجہ نہیں دی جاتی،اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر قسم کھا لیں تو وہ اسے پورا فرماتا ہے، اگر وہ یوں کہہ دے:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت عطا فرماتا ہے لیکن اسے دنیا میں سے کچھ نہیں دیتا۔''
(فردوس الاخبار للدیلمی،باب الراء، الحدیث۳۰۶۶،ج۱، ص۴۱۲)

(البحر الزخار بمسند البزار، مسند عبد اﷲ بن مسعود، الحدیث۲۰۳۵ج۵،ص۴۰۳۔۴۰۴)
    حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عزت نشان ہے: ''بے شک پراگندہ بالوں ،گَر د آلود چہروں اور دو بوسیدہ کپڑو ں والے لوگ جنتی ہیں، جنہیں لوگ حقیر سمجھتے ہیں،جب وہ اُمراء کے پاس جانے کی اجازت طلب کرتے ہیں تو ان کو اجازت نہیں دی جاتی،جب عورتوں کو نکاح کا پیغام دیتے ہیں تو ان سے نکاح نہیں کیا جاتا، جب وہ بات کرتے ہیں تو ان(کی بات سننے )کے لئے خاموشی اختیار نہیں کی جاتی، ان کی ضروریات ان کے سینوں میں حرکت کرتی ہیں، اگر بروزِ قیامت ان کا نور لوگوں میں تقسیم کیا گیا توتمام لوگوں کو کافی ہو جائے گا۔''
 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الأمل، الحدیث۱۰۴۸۶،ج۷،ص۳۳۳)
Flag Counter