Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
273 - 415
باب28:          حُبِّ جاہ اورریاء کی مذمت

حبِّ جاہ:
    جان لیجئے!بے شک جاہ و منصب دِلوں کو پسند ہے، اِسے صرف صدیقین ہی ترک کرتے ہیں، اسی لئے کہاگیاہے کہ ''صدیقین کے ذہنوں سے نکلنے والی آخری چیز سرداری کی محبت ہے ۔''اب ہم چند فصلوں میں اس کی غرض بیان کرتے ہیں۔

     جان لو! جاہ کا مطلب شہرت کا پھیل جانا ہے اور یہ مذموم ہے مگر اس شخص کے لئے نہیں جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنا دین پھیلانے کے لئے مشہور کردے۔ حضرت سیِّدُنااَ نَس ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ بیا ن فرماتے ہیں کہ نبئ رحمت،شفیعِ امّت،قاسم نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
حَسْبُ إمْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ، إلَّا مَنْ عَصَمَہ، اللہُ تَعَالٰی، أنْ یُشِیْرَ النَّاسُ إلَیْہِ بِالْأصَابِعِ فِیْ دِیْنِہٖ وَدُنْیَاہ،۔
ترجمہ:کسی انسان کے لئے برائی کے طور پراتنا ہی کافی ہے کہ لوگ اس کے دین یا دنیا کے معاملے میں اس کی طرف انگلیوں سے اشارے کریں البتہ جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ محفو ظ فرمائے۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی اخلاص العمل ﷲ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۹۷۷،ج۵،ص۳۶۶۔۳۶۷)
     امیر المؤمنین ،مولیٰ مشکل کشاحضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں:''خرچ کرو لیکن شہرت نہ چاہو، اپنی شخصیت کو اس طر ح بلند نہ کرو کہ تمہاراذکر کیا جائے اور لوگ تمہیں جانیں بلکہ اپنے آپ کو چھپا کر رکھو اور خاموشی اختیار کرو محفو ظ رہوگے، اس طر ح نیک لوگ تم سے خوش ہوں گے اور بد کاروں کو غصہ آئے گا۔''

    حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم نے ارشاد فرمایا:''جس نے شہرت کو اچھا سمجھا اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تصدیق نہیں کی۔''

    حضرت سیِّدُنا طلحہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک گروہ کو اپنے ساتھ چلتے دیکھا تو فرمایا :''یہ طمع کی مکھیاں اور جہنم کے بچھونے ہیں ۔ ''

    حضرت سیِّدُنا سلیمان بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ''ہم حضرت سیِّدُنا اُبی ّبن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں دیکھا تو اپنا کوڑا بلند کردیا، انہوں نے عرض کی:'' اے امیر المؤمنین !دیکھئے، آپ کیا کر رہے ہیں؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:'' یہ طریقہ پیچھے چلنے والے کے لئے ذِلَّت او ر آگے چلنے والے کے لئے فتنہ ہے۔''

    حضرت سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ایک دن حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعود ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے نکلے تو
Flag Counter