عرض کی:'' اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا !میرے اوپر صرف ایک عباء (یعنی چغہ) ہے۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہاتھ کے اشارے سے بتا یا کہ اسے اپنے او پر اس اس طرح لپیٹ لیں۔ انہوں نے عرض کی: ''میں نے اپنا جسم تو چھپالیا، سر کیسے ڈھانپوں؟''نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس ایک پرانی چادر تھی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کی طر ف پھینک دی اور فرمایا :''اس سے اپنا سر لپیٹ لو۔'' پھر انہوں نے اجازت دی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لائے اور فرمایا:'' اے میری بیٹی !تم پر سلام ہو، تمہارا کیا حال ہے ؟''انہوں نے عرض کی:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! مجھے درد ہے، اور اس تکلیف میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہوگیا ہے کہ میر ے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ،مجھے بھوک نے نڈھال کردیا ہے (یہ سن کر) رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم روپڑے اور ارشاد فرمایا:
'' اے میری لختِ جگر ! نہ گھبرا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے بھی تین دن سے کچھ نہیں چکھا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں میری تم سے زیادہ عزت ہے، اگر میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مانگو تو وہ مجھے کھلائے گا لیکن میں نے دنیا پر آخرت کو تر جیح دی ہے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خاتونِ جنت کے کندھے پر اپنے دست اقدس سے تھپکی دی اور فرمایا:'' تمہیں خوشخبری ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! تم جنتی عورتو ں کی سردار ہو۔'' انہوں نے عرض کی:'' فرعون کی بیوی حضرت آسیہ اور حضرت مریم بنت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا کیا ہوگا ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''حضرت آسیہ اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہے، حضرت مریم اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہے، حضرت خدیجہ اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہے اور تم اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہو، تم ایسے مکان میں رہوگی جس میں کوئی تکلیف اور شور وغل نہ ہوگا۔'' پھر ارشاد فرمایا: ''اپنے چچا کے بیٹے (یعنی حضرت سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) کے ساتھ قناعت اختیار کرو، میں نے تمہارا نکاح ایسے شخص سے کیا ہے جو دنیامیں بھی سردار ہے اور آخرت میں بھی۔''