Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
271 - 415
سے پیدا ہونے والے! تم کہتے ہو کہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جوکچھ چھوڑا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو نے بھی جھوٹ بولا اور جو کوئی یہ کہے وہ بھی جھوٹا ہے۔کسی نے بھی حضرت سیِّدُناابوذر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات کا جواب نہ دیایہاں تک کہ آپ تشریف لے گئے۔'' 

    منقول ہے ،حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یمن سے ایک قافلہ آیا تو مدینہ طیبہ میں شو ر مچ گیا، حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا :''یہ کیا ہے ؟'' بتا یا گیا :''حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اونٹ آئے ہیں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا:'' رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سچ فرمایا ۔''حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہاسے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ''میں نے جنت میں دیکھا کہ مہاجرین اور (عام) مسلمانوں میں سے فقیر لوگ دوڑے دوڑے داخل ہو رہے ہیں اور میں نے ان کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی مال دار شخص کو داخل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا اور وہ ان کے ساتھ گھٹنوں کے بل چل کر داخل ہورہے ہیں ۔''
 (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی امامۃ الباھلی، الحدیث۲۲۲۹۵،ج۸،ص۲۸۹، بتغیرٍ)

(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث۲۴۸۹۶،ج۹،ص۴۲۴)
    حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر فرمایا:''میں یہ تمام اونٹ اپنے سازو سامان کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور ان کے ساتھ جو غلام ہیں وہ بھی آزاد ہیں شاید کہ میں بھی ان کے ساتھ دوڑتا ہوا داخل ہوجاؤں۔

    حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے بارگاہ نبوی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں ایک مقام حاصل تھا،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے عمران! ہمارے ہاں تمہاری قدرو منزلت ہے، اگر تم چاہو تو حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عیادت کے لئے میرے ساتھ چلو۔''

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کی:'' میں حاضر ہوں، یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔'' رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہو ایہاں تک کہ حضر ت سیِّدَتُنا فاطمہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دروازے پر جاکھڑا ہو ا،نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے درواز ہ کھٹکھٹایا اور فرمایا:'' السّلام علیکم،اے بیٹی ! کیا میں آسکتاہوں ؟ ''انہوں نے عرض کی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! تشریف لائيے۔'' آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''میں بھی اور جو کوئی میرے ساتھ ہے وہ بھی ؟'' انہوں نے پوچھا :''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ کون ہے ؟'' آپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :''عمران بن حصین۔'' انہوں نے
Flag Counter