نفس نے دھوکے میں مبتلا کیا اور ان کی بد بختی ان پر غالب ہے، وہ حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مال کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ ہم تمہارے سامنے ایک حکایت بیان کرتے ہیں جس سے ان کا فساد واضح ہوجائے گا ۔
ہم کہتے ہیں کہ ( جب حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا تو)بعض صحابہ کرام ر ضی اللہ تعالیٰ عنہم کہنے لگے: ہمیں حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرمال چھوڑ کرفوت ہونے کی وجہ سے( آخرت کا) ڈر ہے تو حضرت سیِّدُنا کعب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''سبحٰن اللہ! تمہیں حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کیا خوف کرتے ہو ؟ انہوں نے توپاک مال کمایا ، پاک طریقے سے خرچ کیا اور پاک انداز میں چھوڑا۔'' یہ بات حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچی تو وہ غصہ کی حالت میں حضرت سیِّدُنا کعب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاش میں باہر نکل پڑے ،ان کا گزرایک اونٹ کے جبڑے کی ہڈی پرسے ہو اتو اسے اٹھا لیا، پھر حضرت سیِّدُنا کعب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تلاش کرنے لگے۔
حضرت سیِّدُنا کعب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتایا گیا کہ حضرت سیِّدُنا ابوذر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی تلاش میں ہیں تو وہ بھاگ گئے حتی کہ حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر داخل ہوگئے ،جب حضرت سیِّدُنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیِّدُنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے تو حضرت سیِّدُنا کعب ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر حضرت سیِّدُنا عثمان ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے بیٹھ گئے۔ حضرت سیِّدُنا ابو ذر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:''اے یہودی عورت سے پیداہونے والے! ادھر آ،تیراخیال ہے کہ حضر ت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مال چھوڑا ہے اس میں کوئی حرج نہیں حالانکہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے فرمایا : ''اے ابوذر !'' میں نے عرض کی:''حاضر ہوں، یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' بروزِ قیامت مال داروں کا سر مایہ بہت کم ہوگا مگر جس نے اس طرح دیا اور(یہ فرما کر)دائیں بائیں اورآگے پیچھے کی طرف اشارہ کیا اورفرمایا :''ایسے لوگ کم ہیں۔'' پھر فرمایا:'' اے ابو ذر!میں نے عرض کی:''یا رسو ل اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں حاضر ہوں۔''
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اُحد(پہاڑ) کے برابر سوناہو جسے میں راہ ِ خداعَزَّوَجَلَّ میں خرچ کروں اور دنیا سے جاتے وقت میرے پاس اس میں سے صرف دو قیراط باقی بچیں۔''میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! دو خزانے بچ جاتے تو بھی؟'' فرمایا:''بلکہ دوقیراط۔''پھر فرمایا:'' اے ابوذر! تم زیادہ چاہتے ہو اور میں کم چاہتاہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی یہی چاہتاہے۔''