Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
269 - 415
فقر کی فضیلت اورغِناء کی مذمت

علمائے سوء کی مذمت:
 منقول ہے ،حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃو السلام نے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:' 'اے علمائے سوء (یعنی بدعقیدہ اور بُرے علمائ)!لوگ تمہارے کہنے پر روزے رکھتے ، نماز پڑھتے اور صدقہ دیتے ہیں مگر تم خود اس پر عمل نہیں کرتے جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور اس بات کا درس دیتے ہو جو خود نہیں جانتے،پس تم کتنا برا فیصلہ کرتے ہو کہ زبان سے تو بہ کرتے ہومگر خواہشات کی پیروی کرتے ہو، اس بات سے تمہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کہ اپنے ظاہر کو تو پاک وصاف کر لو لیکن تمہارے دل میلے کے میلے رہیں، میں سچ کہتا ہوں:'' چھلنی کی طر ح نہ ہوجاؤ کہ اس سے صاف آٹا نکل جاتا ہے اور چھان رہ جاتا ہے ایسے ہی تم زبان سے حکمت کی باتیں کرتے ہو لیکن تمہارے دِلوں میں کھوٹ باقی ہے۔''

    اے دنیا کے متوالو! جو شخص دنیا میں خواہشات کو نہیں چھوڑ تا اور دنیا سے اس کی رغبت ختم نہیں ہوتی وہ آخرت کو کیسے پا سکتا ہے ،میں تم سے سچ کہتا ہوں: ''تمہارے دل تمہارے اعمال کی وجہ سے روتے ہیں تم نے دنیا کو اپنی زبان کے نیچے او ر عمل کو اپنے پاؤں کے نیچے رکھا ہوا ہے، میں سچ کہتا ہوں: تم نے اپنی آخرت کو خراب کر دیا،تمہیں آخرت کو بہتر بنانے سے دنیا کو بہتر بنانا زیادہ پسند ہے، اگر تم جانتے ہو تو بتاؤکہ لوگوں میں اور تم میں زیادہ نقصان والا کون ہے ؟ تم پر افسوس ہے !کب تک اندھیرے میں چلنے والوں کو راستہ دکھاؤگے اور خود حیران کھڑے رہوگے گویا تم دنیا والوں کو پکارتے ہو کہ وہ اسے تمہارے لئے چھوڑدیں، ٹھہرو، رک جاؤ،تم پر افسوس ہے ! اگر چراغ گھر کی چھت پر رکھ دیا جائے تو اندھیرے گھر کو کیا فائدہ ہوگا، اسی طرح اگر علم کا نور صرف تمہاری زبانوں پر ہو اور تمہارے دل خالی ہوں تواس علم کا کیا فائدہ؟''

    اے دنیادارو! تم پر ہیز گار بندو ں کی طر ح نہیں ہو اور نہ ہی آزاد معزز لوگو ں کی طرح ہو، قریب ہے کہ دنیاتمہیں جڑ سے اکھاڑکر منہ کے بل پھینک دے پھر تم اپنے نتھنوں پر اوندھے گر جاؤ پھر تمہارے گناہوں نے تمہیں پیشانی سے پکڑرکھا ہو اور علم تمہیں پیچھے سے دھکا دے حتی کہ تمہیں تمہارے مالک کے سامنے یوں پیش کردے کہ تم بر ہنہ جسم اور تنہا ہو اور وہ تمہیں تمہارے گناہوں پر کھڑا کر ے پھر تمہیں تمہارے برے اعمال کی سزا دے۔

    اس سے ثابت ہو اکہ فقر ہی اَولیٰ وافضل ہے،جس نے غنا کو افضل کہا اس نے حضرت سیِّدُنا محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم، تمام انبیاء کرام علیہم السلام او رسلف صالحین رحمہم اللہ المبین کو معمولی جانا،ہم اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں۔جن لوگوں کو
Flag Counter