Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
268 - 415
کیونکہ اگر اسے یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ ایک دن یا ایک مہینے بعد مرجائے گا تو پھر مال خر چ کرنے میں سخاوت سے کام لے اور اگر امید کم ہو تو اس طویل امید کی جگہ اولاد آجاتی ہے تووہ اُن کے لئے مال روک کر رکھتا ہے۔ 

    اسی لئے نبئ اَکرم،نورِ مجسّم،شہنشاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:
ألْوَلَدُ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ مَجْھَلَۃٌ۔
ترجمہ: اولادبخل ، بزدلی اور جہالت میں مبتلا کرنے والی ہے۔
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الادب، باب بر الوالدوالاحسان ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۳۶۶۶،ص۲۶۹۶، بدون: مجھلۃ)
    اور جب اس کے ساتھ ساتھ فقر کا خوف ہو اوررزق کے آنے کا پختہ یقین نہ ہو تو لامحالہ بخل مضبوط ہوجاتا ہے۔

(۲)۔۔۔۔۔۔دوسرا سبب یہ ہے کہ وہ مال سے محبت کرتاہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اسے اس مال کی کبھی ضرورت نہ پڑے گی کیونکہ وہ بوڑھا ہوتا ہے اور اس کی اولاد بھی نہیں ہوتی لیکن وہ محض مال سے محبت کرتا ہے، یہ دل کا پرانا مرض ہے اور ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگتے ہیں۔ ایسے شخص کی مثال اس آدمی کی طر ح ہے جو کسی پر عا شق ہوجاتا ہے پھر اس کے قاصد(یعنی پیغام دینے والے) سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اور اسے بھول جاتا ہے کیونکہ درہم ودینار کامقصدحاجات تک پہنچناہے جب کہ یہ شخص مقصد کو بھول گیا اور وسیلہ وواسطہ پر عاشق ہوگیا اور جو شخص درہم اور پتھر میں سوائے حاجات کے پور ا کرنے کے کوئی فرق کرے، وہ جاہل ہے۔

    جان لیجئے! بخل کا علاج یہ ہے کہ خواہشات اورامید کم کرے اور کثرت سے موت کویا د کرے نیز ہم عصر لوگو ں کی موت میں غورو فکر کرے ، قبر وں کی زیارت اور ان میں جو کیڑے مکوڑے ہیں ،ان میں غور وفکر کرے اور ان احوال میں سوچ و بچار کرے۔ اور اگر دل کی تو جہ اولاد کی طر ف ہو تو اس کا علاج یوں کرے کہ ان کو پیدا کرنے والے نے ان کا رزق بھی پیدا فرمایا ہے اور کتنے ہی بچے ایسے ہیں جو میر اث پاتے ہیں لیکن وہ ان کا رزق نہیں ہوتا اور کتنے ہی بچے ایسے ہیں کہ وہ مالِ وراثت نہیں پاتے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ مال کی صورت میں انہیں رزق عطافرمادیتا ہے۔اگر اس کی اولاد نیک ہوگی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نیک لوگوں کا والی ہے اور اگر فاسق ہوگی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان جیسو ں کو مسلمانوں میں زیادہ نہ کرے کیونکہ وہ اپنے مال سے گناہوں پر مدد حاصل کرتے ہیں اور بخل سے چھٹکارے کا نفع بخش طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ لوگ بخیلوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں اورسخاوت کرنے والوں کی تعریف کرتے اور ان میں رغبت رکھتے ہیں۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا ۔(پ3،البقرہ:268)

    شاید یہ بات اسے فائدہ دے۔
Flag Counter