أیُّمَا رَجُلٍ إشْتَھٰی شَہْوَۃً فَرَدَّ شَہْوَتَہ، وَآثَرَ عَلٰی نَفْسِہٖ غُفِرَلَہٗ۔
ترجمہ: جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتاہو پھر اپنی خواہش ترک کر دے اور دو سرے کو اپنے اوپر تر جیح دے تو اس کی بخشش کر دی جائے گی ۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم۱۲۸۹۔عمرو بن خالد، ج۶، ص۲۲۳)
رسولِ اَکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں ایک مہمان آیا اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے گھر میں کچھ نہ پایا تو ایک انصاری آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو ئے اور مہمان کو اپنے گھر لے گئے پھر اس کے سامنے کھانا رکھا اوربیوی کو چر اغ بجھانے کا حکم دیا، خود کھانے کی طر ف ہاتھ بڑھاتے رہے جیسے کھا رہے ہوں حالانکہ کھا نہیں رہے تھے یہاں تک کہ مہمان نے کھانا کھالیا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
لَقَدْ عَجَبَ اللہُ مِنْ صَنِیْعِکُمْ إلٰی ضَیْفِکُمْ ۔
ترجمہ:تمہارا اپنے مہمان سے(حسنِ)سلوک سے پیش آنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بہت پسند آیا۔
(صحیح مسلم، کتاب الأشربۃ، باب اکرام الضیف ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۵۳۵۹،ص۱۰۴۵)
تو یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟
ترجمۂ کنزالایمان:ا ور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں شدیدمحتاجی ہو۔(پ 28 ، الحشر: 9)
جان لیجئے! بخل کا سبب مال کی محبت ہے او رمال کی محبت کے دو اسباب ہیں۔
(۱)۔۔۔۔۔۔پہلا سبب خواہشات کی محبت ہے جن تک مال کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں اور اس کے ساتھ لمبی زندگی کی اُمید بھی ہوتی ہے