''ألصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ
(مسند ابی یعلی الموصلی، مسند جابر بن عبد اﷲ، الحدیث۱۸۴۹،ج۲، ص۲۲۰)
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدُتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طر ف دو تھیلوں میں ایک لاکھ اسی ہزار درہم بھیجے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک تھال منگوایا اور ان دراہم کو لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ جب شام کا وقت ہوا تو فرمایا:''اے لڑکی ! ہماری افطاری لاؤ۔'' وہ روٹی اور زیتون لے کر آئیں۔ حضرت سیِّدَتُنا ام درہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی:'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آج مال تقسیم فرمایا، اگر ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں تو ہم اس سے افطاری کرلیتے ؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا:'' اگر تم یا د دلاتی تو میں ایسا کرلیتی۔''
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
(1) وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ9﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔(پ 28،الحشر:9)
(2) وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: او رجو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طو ق ہو گا۔(پ4، اٰل عمران:180)
حضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:'' بُخل سے بچو کیونکہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اُن کو ایک دوسرے کا خون بہانے اور حرام چیز وں کو حلال ٹھہرانے پر برانگیختہ کیا۔''
(صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم، الحدیث۶۵۷۶،ص۱۱۲۹)
حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے ارشاد فرمایا:'' بخیل ، مکاّر ، خیانت کرنے والا اور بد اخلاق جنت میں نہیں جائیں گے۔''