| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
مال کے بھی وہی فضائل ہیں جوصدقہ اور حج کے متعلق بیان کئے گئے ہیں۔
جا ن لو! عقلمند اورصاحبِ بصیرت لوگو ں کا مقصد اُخروی سعادت پانا ہے اور مال اس کے لئے وسیلہ ہے ،کبھی مال کے ذریعے تقوی اور عبادت پر قوت حاصل کی جاتی ہے اور کبھی اسے آخرت کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے اور جو شخص عیش وعشرت کے لئے مال حاصل کرتاہے یا اس کے ذریعے گناہوں اور شہوت رانی میں منہمک ہوتا ہے تو یہ اس کے حق میں مذموم ہے۔
جان لو ! مال کی مثال یہ ہے کہ یہ سانپ کی طرح ہے جس میں زہر بھی ہے اور تریاق(یعنی علاج) بھی۔ اس کے فائدے تریاق ہیں اور اس کی آفات اس کا زہر ہے۔ پس جس شخص کو اس کا علم ہوا ور وہ اس کے زہر سے بچنے اور اس کے تریاق سے نفع اٹھانے پر قادر ہو تو اس کے لئے یہ قابلِ تعریف ہے۔قناعت اورلوگوں کے مال سے بے نیازہونے کی تعریف اور حرص کی مذ مّت:
جان لیجئے! فقر قابلِ تعریف ہے لیکن فقیر کو چاہے کہ جو کچھ لوگو ں کے پاس ہے اس میں طمع نہ کرے اور یہ خوبی تب پیدا ہو سکتی ہے جب وہ کھانے ، پینے اور لباس کے معاملے میں بقد رِ ضرورت پرقناعت کرے، اورادنیٰ اور کم مقدار پر اکتفاء کرے اور اپنی اُمید کو ایک دن یا ایک مہینے تک بڑھا دے تاکہ اس کے اندر فاقہ پر صبرکرنے کی قوت پیدا ہو جائے ورنہ یہ چیز اسے
مال داروں سے طمع رکھنے ،مانگنے اور ذِلت اختیار کرنے کی طرف لے جائے گی۔
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:'' بے شک روح القدس (یعنی حضرت سیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کوئی جان اپنا پورا رزق حاصل کئے بغیر نہیں مرتی پس تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے مانگو۔''(التمھید لابن عبد البر، باب الف، اسحاق بن عبد اﷲ بن ابی طلحۃ، تحت الحدیث۱۵،ج۱،ص۲۳۹)
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
یَا أبَاہُرَیْرَۃَ! إذَا اِشْتَدَّ بِکَ الْجُوْعُ فَعَلَیْکَ بِرَغِیْفٍ وَّکُوزٍ مِّنْ مَاءٍ وَعَلَی الدُّنْیَا الدِّمَارُ۔
ترجمہ:اے ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)!جب تمہیں سخت بھوک لگے توتمہارے لئے ایک رو ٹی اور پانی کا ایک پیالہ کافی ہے اور دنیا پر راکھ ڈالو (یعنی اسے چھوڑ دو)۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الأمل، الحدیث۱۰۳۶۶،ج۷،ص۲۹۵)